احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 516
احمدیہ علیمی پاکٹ بک 516 حصہ دوم اپنے شاگردوں کو نظر آتا رہا۔اس جگہ کوئی یہ نہ سمجھ لیوے کہ مسیح بوجہ مصلوب ہونے کے فوت ہوا۔کیونکہ ہم ثابت کر آئے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے صلیب سے مسیح کی جان بچائی تھی بلکہ یہ تیسری آیت باب اول اعمال کی مسیح کی طبعی موت کی نسبت گواہی دے رہی ہے۔جو گلیل میں اس کو پیش آئی۔اس موت کے بعد مسیح چالیس دن تک کشفی طور پر اپنے شاگروں کو نظر آتا رہا۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 353-354) اس سے ظاہر ہے کہ پادریوں کو انجیل کی رُو سے لا جواب کرنے کیلئے آپ نے کتاب اعمال کے باب اول آیت تین کی رُو سے مسیح کے گلیل میں طبعی وفات پانے کا ذکر کیا ہے۔جس سے ثابت کرنا مقصود ہے کہ عیسائیوں کا یہ خیال غلط ہے کہ مسیح خا کی جسم کے ساتھ مرنے کے بعد آسمان پر اُٹھائے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اعمال کے بیان کو سچ ،عیسائیوں کے لئے ان کی کتاب کے لحاظ سے قرار دیا تھا نہ اس لحاظ سے کہ حضور خود بھی اس بیان کو سچا جانتے ہیں۔آپ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ عیسائیوں کو اپنی مسلمہ کتاب کا یہ بیان سیچ مان لینا چاہیے اور دفن ہو کر زندہ ہونے کے خیال کو چھوٹ جاننا چاہیے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے وجدان کی رو سے مسیح کا گلیل میں طبعی وفات پانا ایک مشکوک امر تھا۔اس لئے آپ نے اسی جگہ ازالہ اوہام میں فرما دیا:۔یادر ہے کہ یہ تاویلات اس حالت میں ہیں کہ ہم ان عبارتوں کو صحیح اور غیر محرف قبول کر لیں۔لیکن اس کے قبول کرنے میں بڑی دقتیں ہیں“۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 356 ) پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وجدان میں حضرت مسیح علیہ السلام کا