احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 31 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 31

تعلیمی پاکٹ بک 31 حصہ اوّل انہیں لوگوں کے دیکھتے ہوئے ان کے درمیان سے آسمان پر اٹھالیتا تا یہ معجزہ دیکھ کر یہود ایمان لے آتے اور کسی دوسرے شخص کو حضرت مسیح کا ہمشکل بنا کر صلیب دینے کی ضرورت نہ ہوتی جس سے یہود کو حضرت عیسی بن مریم کے مصلوب ہونے کا یقین پیدا ہوتا پھر اگر دوسرا شخص حضرت مسیح کا ہمشکل بنا کر صلیب پر چڑھا دیا جاتا تو وہ اور اس کے اقرباء ضرور شور کرتے کہ وہ تو عیسی نہیں۔پھر وہ مارا بھی جاتا تو منظم رومی حکومت میں شور پڑ جاتا کہ اصل مجرم کی جگہ حکومت کے کارندوں نے دوسرا آدمی مارڈالا ہے اور مقتول و مصلوب کے ورثاء حکومت سے اپیل کرتے اور تحقیقات پر حقیقت کھل جاتی کہ بے گناہ انسان مارا گیا ہے۔حکومت کے کارندوں کو حکومت سزا دیتی اور وارثوں کو تاوان اور یہودیوں کا یہ شبہ مٹا دیا جاتا کہ حضرت عیسی علیہ السلام مقتول و مصلوب ہوئے۔پھر اسرائیلیوں کی ایسی روایات میں بھی اختلاف ہے۔بعض شمعون قرینی کا صلیب دیا جانا بتاتے ہیں اور بعض یہوداہ اسکر یوطی کا۔پس یہ خیال نہایت کمزور، باطل بلکہ سٹنٹ ہے۔یہودیوں اور عیسائیوں کے مسیح علیہ السلام کے واقعہ صلیب کے متعلق ایسے ہی تمام اختلافات کے پیش نظر وَ لكِنُ شُبِّهَ لَهُمْ کے بعد خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔إِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَالَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتَّبَاعَ الظَّنِّ - کہ یقیناً جن لوگوں نے بھی مسیح کے قتل اور صلیب کے واقعہ میں اختلاف کیا ہے ( خواہ یہ کہا کہ وہ مقتول ہوئے یا یہ کہا کہ وہ صلیب پر مارے گئے یا یہ کہا کہ کوئی دوسرا شخص ان کا ہم شکل مصلوب ہوا ) وہ سب اصل واقعہ سے شک میں مبتلا ہیں۔انہیں اس کا (یعنی اصل حقیقت کا ) علم نہیں ہے۔وہ صرف ظن کی پیروی کر رہے ہیں۔