احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 503
ی علیمی پاکٹ بک 503 حصہ دوم کہ میں تمہاری طرح ایک بشر ہوں تمہاری طرح بھول بھی جاتا ہوں۔صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز دورکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا اس پر ذوالیدین کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا:۔أقُصِرَتِ الصَّلَوةُ يَارَسُولَ الله أَمُ نَسِيتَ کہ یا رسول اللہ نماز کی قصر ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔كُلُّ ذَالِكَ لَمْ يَكُنُ “ کہ دونوں میں سے کوئی بات بھی نہیں ہوئی۔اس پر ذوالیدین نے عرض کیا:۔قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَالِكَ يَارَسُولَ الله کہ اے رسول اللہ ان میں سے کچھ تو ہوا ہے۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا:۔أَصَدَقَ ذُواليَدَيْنِ “۔کیا والیدین نے صحیح کہا ہے۔صحابہ نے کہا:۔نَعَمُ يَا رَسُولَ الله “ کہ ہاں یا رسول اللہ۔ذوالیدین نے سچ کہا ہے۔حدیث میں ہے:۔فَأَتَمَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلوةِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيم“۔مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلاة باب السهو في الصلاة والسجود له) یعنی اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی نماز پوری کی۔پھر سلام کے بعد بیٹھے ہوئے دو سجدے کئے۔حضور گا دو سجدے کرنے کا عمل سہو واقع ہونے کا عملی اعتراف ہے۔لہذا كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنُ کا فقرہ بھی سہو پر ہی مبنی قرار دینا پڑے گا۔(دیکھئے صحیح بخاری کتاب الصلوۃ باب تشبیک الاصابع)