احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 501 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 501

ندی تعلیمی پاکٹ بک 501 حصہ دوم علامہ سندھی اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں:۔كَمَا ذَكَرَهُ السُّيُوطِيُّ وَفِي الزَّوَائِدِ هَذَا أَسْنَادٌ صَحِيحٌ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ رَوَاهُ حَاكِمُ فِي الْمُسْتَدِرَكِ وَقَالَ هَذَا صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْن ( حاشیہ ابن ماجہ مطبوعہ مصر جلد 2 صفحہ 269) ترجمہ :۔سیوطی نے بھی اس روایت کا ذکر کیا ہے اور الزوائد میں ہے کہ اس کی سند صحیح ہے اور راوی ثقہ ہیں۔پھر امام حاکم نے اپنی مستدرک میں بھی اس کو روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ روایت بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق بھی صحیح ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم دونوں کی شرطوں کے مطابق صحیح ہے۔لہذا بخاری کی طرف منسوب کرتے ہوئے اس کی جو قوت ہو سکتی ہے اُن میں کوئی کمی دونوں اماموں کی شرائط کے مطابق ہونے کی وجہ سے قرار نہیں دی جاسکتی۔ہو کو جھوٹ قرار دینا ظلم عظیم ہے۔جھوٹ بولنے میں تو کوئی غرض مد نظر ہوتی ہے۔جب یہ روایت شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔تو بخاری کی طرف نسبت سے اس کی جو غرض ہو سکتی ہے۔اس میں تو کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا۔حوالہ دینے میں اس قسم کا سہو تو کئی ائمہ اور علماء سے بھی سرزد ہوا ہے۔علامہ سعد الدین تفتازانی ، علامہ خسرو۔ملا عبدالحکیم تینوں نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ حدیث يَكْثَرُ لَكُم الْحَدِيثُ بَعْدِي۔الى آخر “ امام بخاری نے اپنی صحیح میں درج کی ہے ( تلویح شرح توضیح جلد 1 صفحہ 261 ) مگر یہ حدیث صحیح بخاری میں موجود نہیں چونکہ حدیث در اصل موجود ہے گو بخاری میں نہیں اس لئے ان تینوں بزرگوں کو حوالہ دینے میں سہو کا مرتکب تو قرار دیا جاسکتا ہے کا ذب اور مفتری قرار نہیں دیا جاسکتا۔