احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 499
ند یتعلیمی پاکٹ بک 499 حصہ دوم کہ خدا تعالیٰ اپنی ضعیف مخلوق سے تکبر پسند نہیں کرتا جو فانی کیڑے ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کرم خاکی والے شعر کا مطلب حضرت داؤد علیہ السلام کی طرح اپنی پیدائش سے پہلے کی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ہے کہ میں کرم خاکی ہوں بلحاظ اصل وضع کے انسان بھی نہیں ہوں اور اس کرم خا کی ہونے کی حالت میں قابلِ نفرت وجود ہوں اور قابلِ شرم۔پھر خدا کے فضل کا ذکر کرتے ہوئے آگے فرماتے ہیں:۔یہ سراسر فضل واحساں ہے کہ میں آیا پسند ورنہ درگہ میں تیری کچھ کم نہ تھے خدمت گزار براہین احمدیہ جلد پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 127) اور کرم خا کی والے شعر سے پہلے لکھتے ہیں:۔تیرے کاموں سے مجھے حیرت ہے اے میرے کریم کس عمل پر دی ہے مجھ کو خلعت قرب وجوار ان اشعار سے ظاہر ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے حضور بصورت مناجات ہیں۔ایک دوسرے شعر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہا ہے:۔کر سکے بُودم مرا کردی بشر من عجب تر از مسیح به پدر کہ اے خدا ! میں تو ایک کیڑا تھا۔تو نے مجھے بشر بنا دیا۔اور میرا 66 معاملہ تو بے باپ مسیح سے بھی عجیب تر ہے۔اس شعر سے ظاہر ہے کہ آپ کرم سے بشر بن گئے۔اور اوپر کے شعروں سے ظاہر ہے کہ آپ بشر بھی ایسے بنے کہ خدا نے آپ کو خلعتِ قرب و جوار دی۔کرم خا کی والی نظم میں ہی فرماتے ہیں :۔