احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 495
ی علیمی پاکٹ بک 495 انہوں نے اپنے پینج میں صاف لکھا تھا:۔حصہ دوم انہیں ہمارے سامنے لاؤ۔جس نے ہمیں رسالہ انجام آتھم میں دعوت مباہلہ دی ہوئی ہے“۔مگر جب حضرت اقدس علیہ السلام کی طرف سے مباہلہ کا چیلنج منظور کیا گیا۔تو وہ طرح دے گئے کہ میں نے قسم کھانے پر آمادگی کی ہے نہ کہ مباہلہ پر۔مباہلہ میں تو فریقین قسم کھاتے ہیں۔حضرت اقدس نے اُن کے اِس طریق کار سے یہ تاثر لیا۔کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نہ تو کھل کر مباہلہ سے انکار کرتے ہیں۔اور نہ اس کے لئے آمادہ نظر آتے ہیں۔اس لئے آپ نے مولوی ثناء اللہ صاحب کی اس پوزیشن کو واشگاف کرنے کے لئے 15 اپریل 1907ء کو ایک کھلی چٹھی بعنوان ”مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے نام لکھی۔اور اس میں اپنی سنت اللہ کے موافق اپنی طرف سے دعائے مباہلہ کا مضمون لکھ دیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ جھوٹا بچے کی زندگی میں طاعون ، ہیضہ وغیرہ امراض سے ہلاک ہو۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے مباہلہ میں بد دعا کے طریق فیصلہ کو کھلے طور پر نا منظور کر کے واضح کر دیا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بالمقابل مباہلہ کرنے کے لئے تیار نہیں۔اور اس طریق فیصلہ سے پورے طور پر گریز کر چکے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات جب آپ کے الہامات مندرجہ الوصیت وغیرہ کے مطابق ہو گئی تو اب اس خط کے مضمون کو مولوی ثناء اللہ صاحب کی نا منظوری کے باوجود آپ کے خلاف حجت قرار دینا صریح انصاف کا خون ہے۔