احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 466
466 حصہ دوم یہ آریوں کا خیال ہے کہ خدا انسانوں کی زبان میں کلام نہیں کرتا اعتراض نمبر 10 مرزا صاحب نے کہا ہے:۔”بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی اور ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا کیونکہ اس میں تکلیف مالا طاق ہے۔(چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 218) جب یہ بات ہے تو پھر مرزا صاحب کو غیر زبانوں میں کیوں الہام ہوا؟ الجواب :۔یہ عبارت آریوں کے اس خیال کے رڈ میں ہے کہ خدا انسان کی زبان میں نہیں بولتا اور اس نے اپنے رشیوں پر ویدا اپنی زبان میں نازل کئے جسے رشی نہیں جانتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس امر کو بیہودہ اور غیر معقول قرار دیتے ہیں کہ خدا کا کلام ایسی زبان میں ہو جس کو کوئی سمجھتا ہی نہیں۔اسی عبارت کے بعد مرزا صاحب نے خود فرمایا ہے کہ مجھے مختلف زبانوں میں الہامات ہوئے۔ملاحظہ ہو چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 218) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو ایسے الہامات ہوئے ہیں وہ ایسی زبانوں میں ہوئے ہیں جو دنیا میں سمجھی جاتی ہیں اور اُن کے بولنے والے دُنیا میں موجود ہیں۔پس آپ نے ایسی زبان میں الہام نازل ہونے کو بیہودہ اور غیر معقول قرار دیا ہے جس کو دُنیا میں کوئی نہ جانتا ہو۔