احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 448
ندی تعلیمی پاکٹ بک 448 حصہ دوم مشورہ دیا کہ وہ مسیح موعود ہونے کا دعوی کریں“۔اور یہ بھی لکھا کہ :۔ہم کو حکیم صاحب کا اصل خط تو نہیں مل سکا لیکن مرزا صاحب نے اس خط کا جو جواب لکھا ہے اس میں حکیم صاحب کے اس مشورہ کا حوالہ ہے۔اور مولوی ندوی صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ :۔اس سے اس تحریک کے فکری سر چشمہ کا اور اس کے اصل مجوز اور مصنف کا علم ہوتا ہے“۔قادیانیت از ابوالحسن ندوی صفحہ 67 بار اول مکتبہ دینیات لاہور ) آگے مولوی ندوی صاحب نے خط کا اقتباس درج کیا ہے جو یوں ہے:۔جو کچھ آنمخدوم نے تحریر فرمایا ہے۔اگر دمشقی حدیث کے مصداق کو علیحدہ چھوڑ کر الگ مثیل مسیح کا دعویٰ ظاہر کیا جائے تو اس میں حرج کیا ہے۔در حقیقت اس عاجز کو مثیل مسیح بننے کی کچھ حاجت نہیں۔یہ بنا چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے عاجز اور مطیع بندوں میں داخل کر لیوے۔لیکن ہم ابتلاء سے کسی طرح بھاگ نہیں سکتے۔خدا تعالیٰ نے ترقیات کا ذریعہ صرف ابتلاء ہی کو رکھا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے:۔أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا أَمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ - ( مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 98-99 مکتوب نمبر 63 مطبوعہ اپریل 2008ء) اس خط سے ظاہر ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کے اس مشورہ کو جو انہوں نے دمشقی حدیث کے ابتلاء پیدا ہونے کے خطرہ کے ماتحت از خود یا قبول نہیں فرمایا۔اور اپنے آپ کو دمشقی حدیث کا مصداق قرار دینے سے جو ابتلا پیش آسکتی تھی اس ابتلا کو ترقیات کا ذریعہ قرار دیا۔پس اس خط