احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 440 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 440

احمدیہ علیمی پاکٹ بک 440 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لبید کا یہ شعر: وَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ حصہ دوم اس مصرع کو پڑھ کر پسند فرمایا ہے۔اور جنگ کے موقع پر یہ دو شعر موزوں کئے ہیں۔جنگ حنین میں فرمایا :۔أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ (بخاری کتاب المغازی باب قول الله تعالى ويوم حنين اذ اعجبتكم كثرتكم۔۔۔۔۔۔) ایک موقع پر اپنی انگلی زخمی ہو جانے پر فرمایا:۔هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبُعٌ دَمِيةٍ وَفِي سَبِيْلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ (بخاری کتاب الجهاد و السيرباب ما يجوز من الشعر والرجز۔۔۔۔۔۔) کہ تو تو صرف ایک انگلی ہے جس سے خون بہہ پڑا ہے اور تو نے اللہ کی راہ میں یہ تکلیف اُٹھائی ہے۔شمس العلماء خواجہ الطاف حسین حالی نے شعر کے متعلق لکھا ہے:۔جو شخص معمولی آدمیوں سے بڑھ کر کوئی مؤثر اور دلکش تقریر کرتا تھا۔اس کو شاعر جانتے تھے۔جاہلیت کی قدیم شاعری میں زیادہ تر اسی قسم کے برجستہ اور دل آویز فقرے اور مثالیں پائی جاتی ہیں جو عرب کی عام بول چال سے فوقیت اور امتیاز رکھتی تھیں۔یہی سبب تھا کہ جب قریش نے قرآن مجید کی نرالی اور عجیب عبارت سنی تو جنہوں نے اس کو کلام الہی نہ مانا۔وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو شاعر کہنے لگے حالانکہ قرآن شریف میں وزن کا مطلق التزام نہ تھا۔( مقدمہ شعر و شاعری صفحہ 36 ، 37 از مولنا الطاف حسین حالی مطبوعہ سٹار بکڈ پوار دو بازار لاہور2)