احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 441
حمدی تعلیمی پاکٹ بک 441 حصہ دوم ہے کہ:۔امام راغب اصفہانی ” نے اپنی مشہور لغت میں شعر کے متعلق لکھا ہے :- الشَّعُرُ يُعَبَّرُ بِهِ عَنِ الْكِذَبِ“ کہ شعر کا لفظ جھوٹ کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔سچ یہ ہے کہ انہی معنوں کے لحاظ سے قرآن کریم کے متعلق کہا گیا ہے کہ :۔وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ » 66 که قرآن شاعر کا کلام نہیں یعنی وہ جھوٹ پر مشتمل نہیں۔غالبا مومنوں کے اشعار کے پیش نظر ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا إِنَّ مِنَ الشَّعْرِ لَحِكْمَةَ - (ابن ماجہ، کتاب الادب، باب الشعر 3755) کہ بعض شعر حکمت پر مشتمل ہوتے ہیں۔پس جو شعر حکمت پر مشتمل ہوں وہ منافی نبوت نہیں۔داؤد علیہ السلام کی زبور ایسے ہی اشعار پر مشتمل تھی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی الہام ہوا ہے:۔در کلام تو چیزی است که شعراء را در آن دخلی نیست کہ تیرے کلام میں وہ بات پائی جاتی ہے جس میں شعراء کو دخل نہیں۔