احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 439 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 439

439 حصہ دوم۔ترجمہ:۔یہ ہے کہ ہم نے اس نبی کو کافروں کے خیال کے مطابق شعر نہیں سکھایا۔یہ تو نصیحت اور قرآنِ مبین ہے۔کافروں کا یہ اعتراض تھا کہ قرآن مجید ان معنوں میں شعر ہے کہ وہ ایک جذباتی کلام ہے اور جھوٹ پر مشتمل ہے۔خدا نے فرمایا کہ قرآن مجید ان کے مزعومہ معنی میں شعر نہیں ہے۔بلکہ یہ تو نصیحت ہے اور ایسی کتاب ہے جو بار بار پڑھی جائے گی۔اور مضمون کو کھول کر بیان کرنے والی ہے۔بیشک شعر گوئی کوئی اچھا پیشہ نہیں جیسا کہ بعض شاعروں نے اسے اختیار کر رکھا ہوتا ہے۔ایسے ہی شعراء کی نسبت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:۔وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُنَ أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُوْنَ وَأَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ مَا لَا يَفْعَلُوْنَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَذَكَرُوا اللهَ كَثِيرًا وَانْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا - (الشعراء: 225 تا 228) ترجمہ :۔اس کا یہ ہے کہ عام شاعر وہ ہیں جن کے پیچھے گمراہ لوگ چلتے ہیں۔کیا تو نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور وہ باتیں کہتے ہیں جو خود نہیں کرتے۔مگر مومن شعراء ایسے نہیں جو اعمال صالحہ بجالائے اور انہوں نے اللہ کا ذکر کیا اور مظلوم ہونے پر بدلہ لیا۔چونکہ مومنوں کے شعر اللہ تعالیٰ کے ذکر اور مناجات اور دینی نصائح پر مشتمل ہوتے ہیں یا مظلوم ہونے کے بعد جوابی صورت میں کہے گئے ہوتے ہیں۔اس لئے ایسے اشعار ممنوع نہیں۔پاکیزہ اشعار خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سنا کرتے تھے اور بعض دفعہ حضرت حسان کو فہمائش کر کے شعروں میں قریش کی ہجو کرائی اور انہیں یہ تسلی دی کہ رُوح القدس تمہارے ساتھ ہے اور ایک موقع پر