احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 431
احمدی تعلیمی پاکٹ بک 431 تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ ہدایت کر رہے ہیں کہ :۔حصہ دوم ” جب تک یہ اپنا طریق چھوڑ کر مجھ میں ہو کر نہیں دیکھتے یہ حق پر ہرگز نہیں پہنچ سکتے۔۔۔۔۔اسی لئے تو میں کہتا ہوں کہ میرے پاس آؤ۔میری سنو تا کہ تمہیں حق نظر آوے۔میں تو سارا ہی چولا اتارنا چاہتا ہوں۔کچی تو بہ کر کے مومن بن جاؤ پھر جس امام کے تم منتظر ہو میں کہتا ہوں وہ میں ہوں۔اس کا ثبوت مجھ سے لو۔اس لئے اس خلیفہ بلا فصل کے سوال کو عزت کی نظر سے نہیں دیکھا۔۔۔۔دیکھوستی ان کی حدیثوں کو لغو قرار دیتے ہیں۔یہ اپنی حدیثوں کو مرفوع متصل اور ائمہ سے مروی ٹھہراتے ہیں۔ہم کہتے ہیں یہ سب جھگڑے فضول ہیں۔اب مردہ باتوں کو چھوڑو۔اور ایک زندہ امام کو شناخت کرو کہ تمہیں زندگی ملے۔اگر تمہیں خدا کی تلاش ہے تو اس کو ڈھونڈ و جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہے۔۔۔میں تو بار بار یہی کہتا ہوں کہ ہمارا طریق تو یہ ہے کہ نئے سر سے مسلمان بنو۔پھر اللہ تعالیٰ اصل حقیقت خود کھول دے گا۔میں سچ کہتا ہوں کہ اگر وہ امام جن کے ساتھ یہ اس قدر غلو کرتے ہیں۔زندہ ہوں تو ان سے سخت بیزاری ظاہر کریں۔جب ہم ایسے لوگوں سے اعراض کرتے ہیں۔پھر کہتے ہیں ہم نے ایسا اعتراض کیا جس کا جواب نہ آیا۔اور پھر بعض اوقات اشتہار دیتے پھرتے ہیں۔مگر ہم ایسی باتوں کی کیا پرواہ کر سکتے ہیں۔ہم کو تو وہ کرنا ہے جو ہمارا کام ہے۔اس لئے یاد رکھو کہ پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑ دو۔اب نئی خلافت لو۔ایک زندہ علی تم میں موجود ہے اس کو چھوڑتے ہو۔اور مردہ علی کو تلاش کرتے ہو“۔(الحکم 17 /نومبر 1900 صفحہ 2) اقتباس کا آخری فقرہ جس پر اعتراض کیا جاتا ہے اپنے منطوق میں واضح