احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 430
ندی تعلیمی پاکٹ بک 430 حصہ دوم حسین ہے کیا تو انکار کرتا ہے۔پس یہ ( یعنی شرک ) اسلام پر ایک مصیبت ہے۔کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔اس آخری مصرعے میں قَذْرٌ مُقَنْطَرُ کے الفاظ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے متعلق نہیں بلکہ اس مصرعے میں کستوری کی خوشبو سے مراد تو حید الہی ہے اور قَذْرٌ مُقَنْطَر یعنی گوہ کے ڈھیر کے الفاظ مشر کا نہ فعل کے متعلق ہیں۔چنانچہ اگلے شعر میں فرماتے ہیں:۔وَإِنْ كَانَ هَذَا الشَّرْكُ فِي الدِّينِ جَائِزًا فَبِاللَّغْوِ رُسُلُ اللَّهِ فِي النَّاسِ بُعْثِرُوا اور اگر یہ شرک دین میں جائز ہے پس خدا کے پیغمبر بیہودہ طور پر لوگوں میں بھیجے گئے۔اعجاز احمدی روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 194 ) معترض کہتا ہے کہ مرزا صاحب نے کہا تھا:۔تمہارے درمیان ایک زندہ علی موجود ہے، اور تم اسے چھوڑ کر مردہ علی کو تلاش کر رہے ہو۔الجواب یہ فقرہ حضرت علی کی تو ہین پر مشتمل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہرگز حضرت علی کی تو ہین کا ارتکاب نہیں کر سکتے تھے۔اس فقرہ کو اگر اس کے سیاق میں دیکھا جائے تو ہر گز کسی تو ہین کا موجب نہیں بلکہ اس میں حدیث نبوی مَنْ لَمْ يَعْرِفْ اِمَامَ زَمَانِهِ فَقَدْ مَاتَ مِيْتَةً جَاهِلِيَّةً لَی روشنی میں امام الزماں کی شناخت پر زور دیا گیا ہے۔کیونکہ حضور کے یہ ملفوظات جو بصورت ڈائری الحکم میں شائع ہوئے ہیں۔حضرت علیؓ کے متعلق ایک غلق رکھنے والے شخص سے گفتگو کے سلسلہ میں ہیں۔جو حضرت علی کی خلافت بلا فصل کا حامی