احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 411
یتعلیمی پاکٹ بک 411 حصہ دوم ہے۔کسی حدیث میں ایسا نہیں لکھا۔الجواب: اس بارہ میں حدیث تو ہم بعد میں پیش کریں گے۔جس سے انشاء اللہ معترض کا اعتراض هَبَاءً مَّنثُورًا ہو جائے گا۔اولاً ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ عبارت اس سیاق میں واقع ہے کہ محض شک وشبہ اور وسوسہ کی بناء پر بعض امور کو حرام نہیں سمجھ لینا چاہیئے تفصیل اس کی یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قادیان سے 25 رنومبر 1903 ء کو ایک صاحب کے استفسار کے جواب میں مندرجہ ذیل خط لکھا:۔آپ کا خط مجھ کو ملا۔آپ اپنے گھر میں سمجھا دیں کہ اس طرح شک وشبہ میں پڑنا بہت منع ہے۔شیطان کا کام ہے جو ایسے وسوسے ڈالتا ہے۔ہرگز وسوسہ میں نہیں پڑنا چاہیئے۔گناہ ہے۔اور یادر ہے کہ شک کے ساتھ غسل واجب نہیں ہوتا اور نہ صرف شک سے کوئی چیز پلید ہو سکتی ہے۔ایسی حالت میں بیشک نماز پڑھنا چاہیئے اور میں انشاء اللہ دعا بھی کروں گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب و ہمیوں کی طرح ہر وقت کپڑا صاف نہیں کرتے تھے۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اگر کپڑا پر مٹی گرتی تھی تو ہم اس مٹی خشک شدہ کو صرف جھاڑ دیتے تھے کپڑا نہیں دھوتے تھے۔اور آپ ایسے کنواں سے پانی پیتے تھے جس میں حیض کے لئے پڑتے تھے۔ظاہری پاکیزگی سے معمولی حالت پر کفایت کرتے تھے۔عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے۔حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔اصول یہ ہے کہ جب تک یقین نہ ہو۔ہر ایک چیز پاک ہے۔محض شک سے کوئی چیز پلید نہیں ہوتی۔اگر کوئی شیر خوار بچہ کسی کپڑے پر پیشاب کر دے۔تو اس کپڑے کو دھوتے نہیں تھے۔محض پانی کا ایک چھینٹا اس پر ڈال دیتے تھے۔