احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 407 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 407

احمدی تعلیمی پاکٹ بک 407 حصہ دوم اس نصیحت کو تو نظر انداز کیا جاتا ہے اور مسیح کی تو ہین کا الزام لگایا جاتا ہے۔حالانکہ مسیح کے زمانہ میں شراب حرام نہ تھی کہ اس کا پینا معصیت ہوتا۔اس لئے عیسائیوں کے مذہب میں عشاء ربانی کی رسم میں شراب کا استعمال ایک مذہبی رسم ہے جسے وہ مسیح کے ذریعہ جاری شدہ خیال کرتے ہیں۔اور حضرت مسیح کا ایک مجلس کے لئے معجزہ سے شراب بنانا خود انجیلوں میں مذکور ہے۔ہاں اگر شراب اُس زمانہ میں حرام ہوتی تو پھر مسیح کے لئے اس کا استعمال ناجائز ہوتا۔حضرت مسیح موعود نے تو اس جگہ دو تو جیہیں بھی بیان کر دی ہیں کہ یا وہ بیماری کی وجہ سے شراب پیتے تھے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔گویا اس جگہ آپ کے نزدیک مسیح نے اضطرار اشراب پی تھی جس حد تک ان کی شریعت میں جائز تھی۔عمل الترب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں مسیح کے معجزات کے متعلق یہ لکھا ہے:۔یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن و حکم الہی السبیع نبی کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے گوالیع کے درجہء کاملہ سے کم رہے ہوئے تھے۔کیونکہ البیع کی لاش نے بھی معجزہ دکھایا کہ اس کی ہڈیوں کے لگنے سے ایک مُردہ زندہ ہو گیا۔مگر چوروں کی لاشیں مسیح کے جسم سے لگنے سے ہرگز زندہ نہ ہوسکیں یعنی وہ دو چور جو مسیح کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے بہر حال مسیح کی یہ تربی کارروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں۔مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔اگر یہ عاجز اس عمل