احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 380
احمدی تعلیمی پاکٹ بک 380 حصہ دوم دلیل ہے کہ <mark>کس</mark>ی حکومت میں رہتے ہوئے پر امن طریق سے زندگی بسر کرنی چاہیے اور جب اس حکومت کا ظلم نا قابل برداشت حد تک پہنچ جائے تو اس ملک کو چھوڑ دینا چاہئے۔بغاوت کا طریق اختیار کرنا سنتِ نبوی کے خلاف ہے۔ہاں اگر ملکی نظام ہجرت کی اجازت بھی نہ دے اور دین میں بھی مداخلت جاری رکھے تو پھر بغاوت کرنا خلاف حق نہیں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے 1889ء میں جماعت احمدیہ کی بنیاد رکھی۔اس سے پہلے انگریزی حکومت ہندوستان میں قائم ہو چکی ہوئی تھی اور مسلمان بطور مستأمن انگریزوں کی سلطنت میں زندگی بسر کر رہے تھے۔اور اپنے پرسنل لا ء کی آزادی کے ساتھ انہوں نے انگریزوں کی رعایا ہونا قبول کر رکھا تھا چنانچہ۔۔(الف) مولوی ابوالاعلیٰ صاحب مودودی رقم طراز ہیں:۔”ہندوستان اس وقت بلا شبہ دارالحرب تھا۔جب انگریزی حکومت یہاں اسلامی سلطنت کو مٹانے کی کوشش کر رہی تھی۔اس وقت مسلمانوں کا فرض تھا کہ یا تو اسلامی سلطنت کی حفاظت میں جانیں لڑاتے یا اس میں نا کام ہونے کے بعد یہاں سے ہجرت کر جاتے۔لیکن جب وہ مغلوب ہو گئے، انگریزی حکومت قائم ہو چکی اور مسلمانوں نے اپنے پرسنل لاء (مذہبی قوانین۔ناقل ) پر عمل کرنے کی آزادی کے ساتھ یہاں رہنا قبول کرلیا۔تو اب یہ ملک دار الحرب نہیں رہا۔(سود حصہ اوّل حاشیه صفحه 77 شائع کردہ مکتبہ جماعت اسلامی لاہور طبع اول) (ب) مولوی حسین احمد صاحب مدنی جیسے سیاسی لیڈر تحریر فرماتے ہیں:۔اگر <mark>کس</mark>ی ملک میں سیاسی اقتدار اعلیٰ <mark>کس</mark>ی غیر مسلم جماعت کے ہاتھوں میں ہو لیکن مسلمان بھی بہر حال اس اقتدار میں شریک ہوں اور ان کے مذہبی