احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 368 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 368

368 حصہ دوم کیونکہ ابلیس ملائکہ میں سے نہ تھا اس کے متعلق دوسری جگہ صاف لکھا ہے:۔كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ - (الكهف: 51) کہ وہ جنوں میں سے تھا۔پس اُس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔ذُريّة البـغـايـا “ کا لفظ اس فقرہ میں اپنے حقیقی معنوں میں استعمال نہیں ہوا بلکہ مجازی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔اور قرینہ لفظیہ اس پر اگلا فقرہ الَّذِينَ خَتَمَ اللهُ عَلى قُلُوبِهِمُ “ ہے کہ ذرية البغایا سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جن کے دلوں پر مُہر لگ چکی ہو۔اور قرینہ حالیہ یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ منکر مامورین کا نسب ضرور گندا ہو۔پس اس جگہ روحانی طور پر ذُرّيّة البغایا مراد ہیں نہ کہ جسمانی طور پر۔اور روحانی طور پر ذُريّة البغایا سے مراد ایسے سرکش لوگ ہوتے ہیں جن کا ایمان نہ لانا مقدر ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے زمانہ کے ایک مخالف کو مخاطب کرتے ہوئے نظم میں کہا:۔اذَ يُتَنِي حُبُثًا فَلَسْتُ بِصَادِقٍ اِنْ لَمْ تَمُتُ بِالْخِزْيِ يَابْنَ بِغَاءِ اور خود اس کا ترجمہ یہ لکھتے ہیں (انجام آتھم میں اس شعر کا ترجمہ مولوی عبدالکریم صاحب نے لفظی کر دیا ہے۔مگر مراد وہی ہوسکتا ہے جو ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود کیا ہے:۔خباثت سے تو نے مجھے ایذاء دی ہے۔پس اگر تو اب رسوائی سے ہلاک نہ ہوا تو میں اپنے دعوی میں سچا نہ ٹھہروں گا۔اے سرکش انسان۔الحکام جلد 11 نمبر 7 مورخہ 24 فروری 1907 ، صفحہ 12 کالم نمبر 2) جس طرح ابن بغایا سے مراد کنجری کا بیٹا نہیں اسی طرح ذرية البغایا سے