احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 361
361 حصہ دوم ترجمہ :۔شان میں سب سے بڑا نبی وہ ہے جس کی ایک دوسری قسم کی بعثت بھی ہو۔اور وہ اس طرح ہے کہ مراد اللہ تعالیٰ کی دوسری بعثت میں یہ ہے کہ وہ تمام لوگوں کو ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لانے کا سبب ہو۔اور اس کی قوم خیر امت ہو جو تمام لوگوں کے لئے نکالی گئی ہو۔لہذا اس نبی کی پہلی بعثت دوسری 66 بعثت کو بھی لئے ہوئے ہوگی۔“ اور امت سے جو کمالات ظاہر ہوتے ہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثتِ ثانیہ ہی کا مقصود ہیں۔گویا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی روحانیت کا انتشار ہوتا ہے اور مسیح موعود کی شان میں وہ فرماتے ہیں۔يَزْعَمُ الْعَامَّةُ أَنَّهُ إِذَا نَزَلَ فِي الْأَرْضِ كَانَ وَاحِدًا مِنَ الْأُمَّةِ كَلَّا بَلْ هُوَ شَرُحٌ لِلاِسْمِ الْجَامِعِ الْمُحَمَّدِي وَنُسُخَةٌ مُنتَسِخَةٌ مِّنْهُ فَشَتَّانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحَدٍ مِّنَ الْأُمَّةِ (الخير الكثير صفحه 72 مطبوعه بجنور مدینہ پریس) ترجمہ :۔عوام کا خیال ہے کہ مسیح جب زمین کی طرف نازل ہوگا تو وہ صرف ایک امتی ہوگا۔ایسا ہرگز نہیں بلکہ وہ تو اسم جامع محمدی کی پوری تشریح ہو گا ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل ظلت اور بروز ہوگا ) اور آپ ہی کا دوسرا نسخہ ہوگا۔جو آپ کے فیض سے مکتب ہوگا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی بعثت ثانیہ ہوگا۔پھر آپ اسی جگہ فرماتے ہیں :۔حقِّ لَّهُ أَنْ يُنْعَكِسَ فِيهِ اَنْوَارُ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ کہ مسیح موعود کا حق ہوگا کہ اس میں سید المرسلین کے انوار منعکس ہوں۔اس سے ظاہر ہے کہ آپ کے نزدیک مسیح موعود کی حیثیت آئینہ کی طرح ہے