احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 341
341 حصہ دوم احمد ی تعلیمی پاکٹ بک کو اوامر اور نواہی سے مخصوص کیا جائے جن میں بناوٹ کا دخل ہو تو پھر مدعی پکڑا جاتا ہے۔حضور نے مخالفین پر حجت ملزمہ قائم کر دی ہے کہ تم صاحب شریعت کی یہ تعریف کرو کہ اُس کی وحی میں اوامر و نواہی ہوتے ہیں تو میری وحی میں اوامر بھی ہیں اور نواہی بھی اور ان پر تئیس برس کا عرصہ بھی گزر گیا ہے تو اب تم پر فرض ہو گیا ہے کہ قرآن کریم کی اس آیت کی روشنی میں مجھے سچا جانو۔پھر آگے لکھا ہے کہ:۔اگر کہو شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ هَذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولى صُحُفِ ابر هِيمَ وَمُوسَى - الاعلى: 19-20) یعنی قرآنی تعلیم تو رات میں بھی - موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی۔غرض یہ سب خیالات فضول اور کو تاہ اندیشیاں ہیں۔(اربعین نمبر 4۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 436) اس جگہ تعریف شریعت مطلقہ کی ہورہی ہے نہ شریعتِ جدیدہ کی جو شریعت مطلقہ کی ایک مقیّد صورت ہے اور جو شریعت سابقہ میں ترمیم و تنسیخ کا نام ہے یا اوامر و نواہی جدیدہ کا نام ہے۔اسی کا حامل حضرت مرزا صاحب کے نزدیک تشریعی نبی کہلاتا ہے۔محض شریعت مطلقہ کا حامل جس کا نزول تجدید دین اور بیان شریعت کے طور پر ہو تشریعی نبی نہیں ہوتا خواہ اُس پر اوامر ونواہی ہی نازل ہوں۔یہی حضرت مسیح موعود کا مذہب ہے۔کیونکہ وہ اوامر ونواہی صرف تجدید دین اور بیانِ شریعت کے طور پر ہونگے نہ شریعت مستقلہ لانے کے طور پر۔اور ایسا ملہم بالواسطہ صاحب شریعت ہوگا نہ براہ راست۔لہذا وہ تشریعی نبی نہیں کہلا سکتا۔اور نہ مستقل صاحب شریعت نبی کہلا سکتا ہے۔خلاصہ بحث یہ ہے کہ تجدید دین کے طور پر شریعت سابقہ کے اوامر و نواہی کا