احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 338 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 338

338 حصہ دوم احمد یہ تعلیمی پاکٹ بک اوامر اور نواہی کا نزول بطور تجدید شریعت ہے نہ بطور شریعت جدیدہ اور تشریعی نبی آپ اسے ہی قرار دیتے ہیں جو شریعت جدیدہ لائے اور شریعت سابقہ کے کسی حکم کو منسوخ یا معطل کرے پس بالواسطہ صاحب شریعت ہونا اور بات ہے اور مستقل طور پر تشریعی نبی ہونا اور بات ہے۔صاحب شریعت تو ایک معنی میں ہر مومن ہوتا ہے۔لہذا مجد ددین بدرجہ اولیٰ صاحب شریعت ہوتا ہے۔اگر مسجد ددین پر اس کی مسلّمہ شریعت کے بعض اوامر اور نواہی بذریعہ الہام نازل ہوں تو وہ اوامر اور نوا ہی تو شریعت ہی ہوں گے۔لیکن جس پر نازل ہوں ان سے وہ مستقل صاحب شریعت نہیں بن جاتا۔ان اوامر و نواہی کے نزول کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں مجد د کے لئے ان باتوں پر زور دینا ضروری ہے۔علماء امت کو یہ مسلم ہے کہ مسیح موعود پر شریعت محمدیہ کا نزول ہوگا۔چنانچہ امام عبدالوہاب شعرانی حضرت محی الدین ابن العربی کا مذہب یوں لکھتے ہیں :۔"يُرْسَلُ وَلِيًّا ذَا نُبُوَّةٍ مُطْلَقَةٍ وَيُلُهَمُ بِشَرْعِ مُحَمَّدٍ“ یعنی مسیح موعود ایسے ولی کی صورت میں بھیجا جائے گا۔جو نبوت مطلقہ کا حامل ہوگا اور اس پر شریعت محمدیہ الہاما نازل ہوگی۔الیواقیت والجواہر جلد 2 صفحہ 89 بحث 47 طبع اولی مطبوعہ مصر ) فتوحات مکیہ جلد 2 صفحہ 287 پر لکھا ہے:۔تَنَزَّلُ الْقُرْآن عَلى قُلُوبِ الْاَوْلِيَاءِ مَا انْقَطَعَ مَعْ كَوْنِهِ مَحْفُوظًا لَهُمْ وَلَكِنْ لَهُمْ ذَوقُ الْإِنْزَالِ وَهَذَا لِبَعْضِهِمْ - کہ قرآن کریم کا نزول اولیاء کے قلوب پر منقطع نہیں باوجود یکہ وہ ان کے پاس اپنی اصلی صورت میں محفوظ ہے۔لیکن اولیاء اللہ کو نزول قرآنی کے ذوق کی خاطر قرآن ان پر نازل ہوتا ہے اور یہ نشان بعض کی عطا کو جاتی ہے۔