احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 330
330 حصہ دوم سے محبت کرنے لگتا ہوں پس جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اُس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے۔اُسکی آنکھ بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے۔اُس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اور اُس کا پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ رویا بخاری شریف کی مذکورہ حدیث سے موافق ہے جس میں خدا کے اپنے محبوب بندے کے کان، آنکھ، ہاتھ اور پاؤں بن جانے کا ذکر ہے اور یہ دراصل وحدت شہودی کا مقام ہوتا ہے نہ کہ وحدت الوجود کا۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاف فرما دیا ہے کہ اس واقعہ سے نہ وحدت الوجود مراد ہے اور نہ خدا کا بندے میں حلول کر جانا۔حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی اس مرتبہ کے متعلق فرماتے ہیں:۔و آں مرتبہ قرب نوافل که مقام فناء صفات است و نزد فنه و محققین اَنَا الحَقُّ ناشی ازیں شہود۔فتوح الغیب فارسی مقالہ نمبر 3 صفحہ 17 ) ترجمہ :۔قرب نوافل کا وہ مرتبہ جو اپنی صفات کو فناء کرنے کا مقام ہے اور اس سے محققین کے نزدیک آنا الحق کا شہود پیدا ہوتا ہے۔کئی بزرگان اُمت کو وحدت کا یہ مقام حاصل ہوا۔چنانچہ حضرت شیخ فریدالدین عطار فرماتے ہیں:۔من خدایم من خدايم من خدا فارغ از کینه و از کبر و ہوا کہ کینہ اور کبر اور حرص سے فارغ ہوکر میں خدا ہوں میں خدا ہوں میں خدا ہوں۔فوائد فرید یہ مترجم با ر اول صفحہ 85 مکتبہ معین الادب جا مع مسجد شریف ڈیرہ غازی خان )