احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 321 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 321

یتعلیمی پاکٹ بک 321 حصہ دوم مختلف اعتراضات کے جوابات حضرت موسی کی حیات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب نورالحق میں لکھا ہے:۔هَذَا هُوَ مُوسَى فَتَى اللَّهِ الَّذِي أَشَارَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ إِلَى حَيَاتِهِ وَفَرَضَ عَلَيْنَا اَنُ نُؤْمِنَ بِأَنَّهُ حَيٌّ فِى السَّمَاءِ وَلَمْ يَمُتُ وَلَيْسَ مِنَ الْمَيِّتِينَ " نور الحق حصه اول روحانی خزائن جلد 8 صفحه 68-69) ترجمہ : ” یہی موسی اللہ کا جوان ہے کہ اللہ نے اپنی کتاب میں اس کی زندگی کا اشارہ کیا ہے اور ہم پر فرض کیا ہے کہ ہم ایمان لائیں کہ وہ آسمان میں زندہ ہے وہ مرا ہوا نہیں اور مرنے والوں میں سے نہیں۔“ 66 اس عبارت کی بناء پر معترضین کہتے ہیں کہ جب حضرت موسی علیہ السلام کو بانی سلسلہ احمدیہ نے مُردہ نہیں بلکہ آسمان میں زندہ مانا ہے تو حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ ماننا کس طرح ناممکن ہے؟ الجواب :۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے نزدیک تمام انبیاء اپنی روحانی زندگی کے ساتھ بعد از وفات آسمان میں زندہ موجود ہیں۔اور ان میں سے آپ کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سب سے زیادہ فوقیت رکھتی ہے اور بے مثال ہے۔آپ حضرت موسی علیہ السلام کی اس عبارت میں روحانی موت کی نفی کر رہے ہیں نہ جسمانی موت کی نفی۔اُن کی جسمانی موت کا ذکر نور الحق کے اگلے