احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 314
احمد یتعلیمی پاکٹ بک 314 لغت کی کتاب مجمع البحار میں لکھا ہے:۔و, تَحْمِدُ الرَّجُلَ عَلَى صِفَاتِهِ الذَّاتِيَّةِ وَعَلَى عَطَائِهِ حصہ دوم مجمع البحار جلد 1 صفحہ 300 مطبوعہ مطبع نول کشور ) کہ ہر شخص کی صفات ذاتیہ پر اور بخشش پر لفظ حد کا استعمال کر سکتے ہیں۔امام بیضاوی زیر آیت الحَمدُ لِلہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں :۔حَمِدَتُ زَيْدًا عَلَى كَرَمِهِ وَعِلْمِهِ۔یعنی میں نے زید کی حمد کی اُسکے علم اور کرم پر۔بخاری جلد 1 صفحہ 169 مصری میں ہے:۔كَأَنَّهُ حَمَدَهُ ، گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سائل کی حمد کی۔بالآخر یہ واضح رہے کہ حمد کا اصل مستحق تو خدا ہی ہے لہذا دوسرے لوگوں کی جو حمد ہو اس کا مرجع بھی دراصل خدا تعالیٰ ہی ہوتا ہے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اعجاز مسیح میں فرمایا ہے:۔وَلَهُ الْحَمْدُ فِي هَذِهِ الدَّارِ وَتِلْكَ الدَّارِ وَالَيْهِ يَرْجِعُ كُلُّ حَمْدٍ يُنْسَبُ إِلَى الْأَغْيَارِ“ ترجمہ : اس دنیا اور آخرت میں حقیقی حمد خدا تعالیٰ کی ہی ہے اور ہر حمد جو غیروں کی ہوتی ہے وہ بھی دراصل خدا کی طرف راجع ہے۔پس کسی بندے یا مقام کی حمد کا مرجع بھی درحقیقت خدا تعالیٰ ہی ہوتا ہے۔الہام نمبر 10 : اربعین نمبر 4 روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 452 حاشیہ پر ایک الہام درج ہے:۔يُرِيدُونَ أَنْ يَرَوْا طَمَتَكَ وَاللَّهُ يُرِيدُ انْ يُرِيَكَ اَنْعَامَهُ۔الْإِنْعَامَاتُ الْمُتَوَاتِرَةُ “ 66