احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 306 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 306

احمدیہ علیمی پاکٹ بک 306 الہام نمبر 2: - اَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ وَلَدِى (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 89) کہ تو مجھ سے میرے بیٹے کے بجا ہے۔حصہ دوم معترض کہتا ہے کہ اس الہام میں بانی سلسلہ احمد یہ خدا کا بیٹا مانتے ہیں۔الجواب :۔واضح ہو کہ اس الہام کا ترجمہ یہ ہے کہ تو میری طرف سے میرے بیٹے کے مرتبہ پر ہے۔اور مراد یہ ہے کہ تو حضرت عیسی علیہ السلام کے مرتبہ پر ہے اور ان کامثیل ہے جنہیں عیسائی میرا بیٹا قرار دیتے ہیں۔اس الہام میں ولد کی اضافت یائے متکلم کی طرف اضافت بادنی ملا بست عیسائیوں کے زعم کے لحاظ سے ہے۔قرآن مجید میں اس کی مثال اَيْنَ شُرَكَاءی “ (النحل: 28) آیت میں پائی جاتی ہے۔دیکھئے خدا کا درحقیقت کوئی شریک نہیں۔لیکن خدا مشرکوں سے قیامت کے دن کہے گا۔کہ میرے شریک کہاں ہیں؟ مراد یہ ہے کہ جن کو تم میرا شریک بناتے ہو وہ کہاں ہیں؟ اس جگہ بھی اضافت شرکاء کی یاء متکلم کی طرف ادنیٰ ملا بست کی وجہ سے ہے جو مشرکین کے زعم باطل کے لحاظ سے ہے۔اسی طرح ولدی“ کی اضافت کا حال ہے۔خدا کی کوئی اولاد نہیں۔لیکن عیسائی انہیں خدا کا بیٹا ٹھہراتے ہیں۔ولد کا لفظ اس الہام میں بطور مجاز اور استعارہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔اس صورت میں یہ اضافت ولد مجاز کی یائے متکلم کی طرف ہوگی۔صوفیوں نے اولیاء اللہ کو مجازی طور پر ہی خدا کے بیٹے قرار دیا ہے نہ حقیقی طور پر۔چنانچہ مثنوی مولانا روم میں ہے:۔اولیاء اطفال حق اند اے پسر ( مثنوی مولانا روم دفتر سوم قصه خورندگان۔۔۔صفحه 386 ناشر انتشارات طلوع)