احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 281
عدی تعلیمی پاکٹ بک 281 حصہ دوم مباہلہ کے لئے تیار ہوں۔اگر وہ دروغ گوئی اور چالاکی سے باز نہ آئیں تو مباہلہ اس طور پر ہوگا کہ ایک تاریخ مقرر ہو کر ہم فریقین ایک میدان میں حاضر ہوں۔اور مسٹر عبداللہ آتھم صاحب کھڑے ہو کر تین مرتبہ ان الفاظ کا اقرار کریں کہ اس پیشگوئی کے عرصہ میں اسلامی رُعب ایک طرفۃ العین کے لئے بھی میرے دل پر نہیں آیا اور میں اسلام اور نبی اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ناحق پر سمجھتارہا اور سمجھتا ہوں۔اور صداقت کا خیال تک نہیں آیا۔اور حضرت عیسی کی ابنیت اور الوہیت پر یقین رکھتا رہا اور رکھتا ہوں۔اور ایسا ہی یقین جو فرقہ پروٹسٹنٹ کے عیسائی رکھتے ہیں اور اگر میں نے خلاف واقعہ کہا ہے اور حقیقت کو چھپایا ہے۔تو اے خدائے قادر ! مجھ پر ایک برس میں عذاب موت نازل کرے۔اس دعا پر ہم آمین کہیں گے اور اگر دعا کا ایک سال تک اثر نہ ہوا اور وہ عذاب نازل نہ ہوا جو جھوٹوں پر نازل ہوتا ہے تو ہم ہزار روپیہ مسٹرعبداللہ آتھم صاحب کو بطور تاوان کے دیں گے۔چاہیں تو پہلے کسی جگہ جمع کرالیں اور اگر وہ ایسی درخواست نہ کریں تو یقیناً سمجھو کہ وہ کا ذب ہیں اور غلو کے وقت اپنی سزا پائیں گے“۔بالآخر حضور تحریر فرماتے ہیں:۔(انوارالاسلام روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 6) پس یقیناً سمجھو کہ اسلام کو فتح حاصل ہوئی اور خدا تعالیٰ کا ہاتھ بالا ہوا اور کلمہ اسلام اونچا ہوا اور عیسائیت نیچے گری“۔مسٹر عبد اللہ آتم اس مؤکد بعذاب قسم کھانے کیلئے آمادہ نہ ہوئے تو حضور نے دوسرا اشتہار دو ہزار روپے کے انعام کے ساتھ شائع کیا اور اس میں تحریر فرمایا:۔حضرت یہ تو دو خداؤں کی لڑائی ہے۔اب وہی غالب ہو گا جو سچا خدا ہے۔