احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 260
احمدی تعلیمی پاکٹ بک 260 حصہ دوم یہ عبارتیں کسی جدید الہام کا نتیجہ نہ تھیں کیونکہ پیشگوئی کی اڑھائی سالہ میعاد گزر جانے کے بعد 1906 ء تک آپ کو اس بارہ میں کوئی جدید الہام نہیں ہوا اور الہام :- لا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ جس اشتہار میں درج تھا اس تتمہ میں پیشگوئی کی الہامی شرط تو بہ بھی أَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ تُوُبِى تُوبِى والے الہام میں درج تھی۔مگر اس شرط کی طرف عدم توجہ کی وجہ سے حضرت اقدس نے یہی اجتہاد کیا کہ سلطان محمد صاحب کسی وقت ضرور تو بہ توڑ دیں گے اور پھر اس کے بعد وہ ہلاک ہوں گے اور اس کے بعد محمدی بیگم صاحبہ ضرور نکاح میں آئیں گی۔یہ اجتہاد کرنے کا آپ کو بہر حال حق تھا کہ اگر سلطان محمد نے کسی وقت تو بہ توڑ دی تو وہ ہلاک ہوں گے اور اس کے بعد محمدی بیگم کا نکاح میں آنا ضروری ہوگا۔مگر حضرت اقدس نے اس سے بڑھ کر یہ اجتہاد فرمایا کہ تو بہ کا توڑ نا ضروری ہے اور سلطان محمد کی موت میں صرف تاخیر ہوگئی ہے۔یہ پیشگوئی ٹلی نہیں۔مگر خدا تعالیٰ نے اپنی سُنت مستمرہ کے مطابق آپ کو اس اجتہاد پر قائم نہ رہنے دیا۔اور 16 فروری 1906ء کو آپ پر ان الفاظ میں الہام نازل فرمایا:۔تَكْفِيكَ هَذِهِ الْاِمْرَأَةُ تذكره صفحه 509مطبوعه2004ء) کہ تمہارے لئے یہ عورت ( جو تمہارے نکاح میں ہے ) کافی ہے۔اس الہام کے نازل ہونے پر آپ نے اپنے پہلے اجتہاد میں اصلاح فرمالی اور تمہ حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 570 میں صاف لکھ دیا کہ:۔” جب ان لوگوں نے اس شرط ( تو بہ۔ناقل ) کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔“