احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 229
229 حصہ دوم احمد یہ تعلیمی پاکٹ بک خلاف ورزی کی اور اس کے نتیجہ میں مکہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چڑھائی کی اور مکہ فتح ہو گیا۔لیکن چونکہ بظاہر شرائط سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ صلح دب کر کی جارہی ہے اس لئے بعض صحابہ کرام پر یہ معاہدہ بہت شاق گزرا۔چنانچہ حضرت عمرؓ نے اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی گفتگو کی جس کا وہ بعد میں کفارہ دیتے رہے۔چنانچہ صحیح بخاری کتاب التفسير تفسير سورة الفتح جلد 3 صفحہ 137 مصری میں حدیث ہے:۔جَاءَ عُمَرُ فَقَالَ اَلَسُنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ۔أَلَيْسَ قَتُلانَا فِى الْجَنَّةِ وَهُمْ فِى النَّارِ۔قَالَ بَلَى قَالَ فَفِيمَ أُعْطِيَ الدَّنِيَّةُ فِى دِيْنِنَا وَ نَرْجِعُ وَلَمَّايَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا فَقَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِيَ اللَّهُ أَبَدًا فَرَجَعَ مُتَغَيِّفًا - کہ حضرت عمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم سچائی پر اور وہ لوگ ( مشرکین مکہ ) باطل پر نہیں ؟۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں (یعنی ہم حق پر ہیں اور وہ باطل پر ) حضرت عمرؓ نے یہ بھی کہا کہ ہمارے مقتولین جنتی اور اُنکے مقتولین ناری نہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ہاں۔(یعنی ہمارے مقتولین جنتی اور اُن کے ناری ہیں ) حضرت عمر نے کہا تو پھر کس وجہ سے ہمارے دین کے معاملہ میں کمزوری دکھائی گئی ہے ( یعنی جنگ نہیں کی جارہی اور ایسی شرائط پر صلح کی جارہی ہے جس میں مشرکین کی طرف سے ہم پر نا جائز دباؤ ڈالا گیا ہے ) اور ہم واپس جارہے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان کوئی فیصلہ نہیں کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اے ابن خطاب ! میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھے ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔پس حضرت عمرؓ ناراض ہونے کی حالت میں واپس ہوئے۔“