احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 226 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 226

احمد یتعلیمی پاکٹ بک 226 حصہ دوم حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم پر چالیس دنوں کے اندر عذاب نازل ہونے کی پیشگوئی فرمائی (در منثور وغیرہ) اور اپنی پیشگوئی کے متعلق انہیں اتنا یقین تھا کہ شہر سے باہر ڈیرہ ڈال کر عذاب کا انتظار کرنے لگے۔مگر قوم نے ٹاٹ پہن لئے۔اور عورتوں ، بچوں ، جانوروں اور چارپایوں کو بھوکا رکھ کر خدا تعالیٰ کے حضور واویلا کیا تو خدا نے قوم کے رجوع کی وجہ سے اس سے عذاب ٹال دیا۔لیکن حضرت یونس علیہ السلام اس خیال سے بھاگ کھڑے ہوئے کہ میری پیشگوئی پوری نہ ہونے کی وجہ سے لوگ مجھے جھٹلائیں گے۔اور اس بھاگنے کی وجہ سے اُن پر گرفت ہوئی اور انہیں تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہنا پڑا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ مَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيْمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا امَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ (يونس: 99) کہ کیوں کوئی اور بستی ایمان نہ لائی سوائے یونس کی بستی کے۔جب اس بستی کے رہنے والے ایمان لے آئے تو ہم نے اُن سے عذاب دُور کر دیا۔“ عَلَيْهِ اور یونس علیہ السلام کے متعلق ایک اور جگہ آیا ہے کہ:۔وَذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ (الانبياء : 88) کہ ذا التون ( مچھلی والا۔یونس ) قوم سے ناراض ہو کر چل نکلا اور اس نے یہ گمان کیا کہ ہم اس پر کوئی تنگی نہیں کریں گے۔‘ (لیکن اس پر تنگی وارد ہوئی یعنی اُسے مچھلی کے پیٹ میں رہنا پڑا۔)