احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 225 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 225

احمدی تعلیمی پاکٹ بک 225 حصہ دوم لہذا بعض اوقات ملہم ایک وعیدی پیشگوئی کو قضائے مبرم سمجھ لیتا ہے لیکن عنداللہ وہ قضائے معلق ہوتی ہے۔ایسی مبرم سمجھی جانے والی قضاء بعض اوقات صدقہ اور دُعا وغیرہ سے مل جاتی ہے۔چنانچہ حدیث میں ہے:۔أَكْثِرُ مِنَ الدُّعَاءِ فَإِنَّ الدُّعَاءَ يَرُدُّ الْقَضَاءَ الْمُبْرَمَ۔(کنز العمال جلد 2 الباب الثامن من الدعاء۔۔۔۔حديث نمبر 3120) کہ کثرت سے دُعا کرو۔کیونکہ دُعا تقدیر مبرم (مبرم سمجھی ہوئی ) کو بھی ٹال دیتی ہے۔اسی طرح صدقہ کے بارے میں ہے کہ:۔"إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الصَّدَقَةَ تَدْفَعُ الْبَلاءَ الْمُبْرَمَ النَّازِلَ مِنَ السَّمَاءِ۔(روض الرياضين بر حاشيه قصص الانبياء صفحه (364) یعنی ” صدقہ و خیرات اس بلاء کو دُور کر دیتا ہے جو مبرم طور پر آسمان سے نازل ہونے والی ہو۔( یعنی جسے بظاہر مبرم سمجھا جاتا ہو ) اسلام میں خدا کے دربار سے کوئی شخص مایوس نہیں لوٹتا۔اس لئے وہ فرماتا ہے:۔قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيْعًا۔(الزمر: 54) ”اے میرے بندو! جنہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا تم خدا کی رحمت سے مایوس مت ہو۔بیشک اللہ تعالیٰ سب گناہوں کو بخش دے گا۔اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔“