احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 224 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 224

احمد یہ تعلیمی پاکٹ بک 224 حصہ دوم ان آیات سے ظاہر ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے غرق ہونے والے بیٹے کو خدا کی پیشگوئی میں مذکور لفظ اہل میں داخل سمجھا۔کیونکہ جسمانی لحاظ سے وہ بہر حال آپ کے اہل میں داخل تھا۔لیکن علم الہی میں اہل کے بچایا جانے کے وعدہ میں وہ داخل نہ تھا۔کیونکہ خدا کے نزدیک وہ اہل مراد تھے جو روحانی لحاظ سے بھی ”اہل ہوں۔اس لئے نوح علیہ السلام نے اجتہادی غلطی سے بچائے جانے والے اہل کے وعدہ میں اسے داخل سمجھا حالانکہ وہ خدا کے وعدہ میں شامل نہ تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے نوح کو اس کے بچایا جانے کی درخواست پر ان کی غلطی سے متنبہ کر دیا۔پس ضروری نہیں کہ لہم الہام کے جو معنی سمجھے وہ ضرور درست ہوں یا جس امر کو وہ خدائی وعدہ سمجھے وہ ضرور خدائی وعدہ ہو اور اس میں تخلف جائز نہ ہو۔ایسے خیالی وعدہ کو پورا کرنے کا خدا تعالیٰ ذمہ وار نہیں ہوتا۔اسلامی عقائد کی کتابوں میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ: إِنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْيَجُتَهِدُ فَيَكُونُ خَطاً - نبراس شرح الشرح لعقائد النسفی جلد دوم صفحه 392) یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی اجتہاد کرتے تو اس میں خطا ہو جاتی۔آگے اس کے ثبوت میں حدیث نبوی ان الفاظ میں درج کی ہے:۔الْمُجْتَهِدُ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ فَإِنْ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِنْ اَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ وَاحِدٌ۔(نبراس) کہ مجتہد اجتہاد میں غلطی بھی کرتا ہے اور درست اجتہاد بھی کرتا ہے۔اگر اس کا اجتہاد درست ہو تو اُسے دو اجر ملتے ہیں (ایک اجتہاد کرنے کا اور دوسرا اجتہاد درست ہونے کا ) اور اگر وہ غلطی کرے تو اُسے ایک اجر ( یعنی صرف اجتہاد کرنے کا ) ملتا ہے۔