احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 183
تعلیمی پاکٹ بک 183 حصہ اوّل و عیسائیت کا مقابلہ دعا لکھا کہ : ”مرزا صاحب کے مضمون کا خلاصہ جو انہوں نے ڈوئی کولکھا یہ ہے کہ۔ہم میں سے ہر ایک اپنے خدا سے یہ دعا کرے کہ ہم میں سے جو جھوٹا ہے خدا اسے ہلاک کرے۔یقیناً یہ ایک معقول اور منصفانہ تجویز ہے۔“ جب ڈوئی نے حضور کو کوئی معقول جواب نہ دیا اور مباہلہ پر آمادگی کا اظہار بھی نہ کیا تو حضور نے 1903 ء میں ایک چٹھی کے ذریعہ اپنے مباہلہ کے چیلنج کو پھر دہرایا اور لکھا کہ:۔میں عمر میں ستر برس کے قریب ہوں اور وہ جیسا کہ بیان کرتا ہے پچاس برس کا جوان ہے جو میری نسبت گویا ایک بچہ ہے، لیکن میں نے اپنی بڑی عمر کی کچھ پرواہ نہیں کی کیونکہ اس مباہلہ کا فیصلہ عمروں کی حکومت سے نہیں ہوگا بلکہ وہ خدا جوزمین و آسمان کا مالک اور احکم الحاکمین ہے وہ اس کا فیصلہ کرے گا اور اگر مسٹر ڈوئی اس مقابلہ سے بھاگ گیا۔۔۔۔پس یقین سمجھو کہ اس کے صحون پر جلد تر ایک آفت آنے والی ہے۔66 (اشتہار مورخہ 23 اگست 1903 ء۔مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه 607 مطبوعه نظارت اشاعت ربوہ) مسیح موعود علیہ السلام کے اس چیلنج کا تذکرہ امریکہ کے بہت سے اخبارات میں ہوا جن میں سے 32 اخبارات کے مضامین کا خلاصہ حضرت اقدس نے تتمہ حقیقۃ الوحی میں درج فرمایا ہے۔آخر جب پبلک نے ڈولی کو بہت تنگ کیا اور جواب دینے پر مجبور کیا تو اس نے اپنے اخبار کے دسمبر کے پرچے میں لکھا کہ:۔”ہندوستان کا ایک بے وقوف محمدی مسیح مجھے بار بار لکھتا ہے کہ یسوع مسیح کی قبر کشمیر میں ہے اور لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تو کیوں اس شخص کو جواب نہیں دیتا مگر کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں ان مچھروں اور مکھیوں کا جواب دوں