احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 180
تعلیمی پاکٹ بک 180 حصہ اول ساڑھے تین بجے تک تھا۔آپ کے صحابی حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے مضمون پڑھنا شروع کیا۔سامعین پر عجیب کیفیت طاری تھی ہر طرف سے تحسین و آفرین کے نعرے بلند ہونے لگے۔جب تقریر کا مقررہ وقت گزر گیا اور تقریر ختم نہ ہوئی تو ہزاروں کی تعداد میں جمع شدہ سب حاضرین نے یک زبان ہو کر کہا کہ اس مضمون کو ختم کرنے کے لئے وقت بڑھایا جائے کیونکہ اسے ہم نے ضرور سننا ہے خواہ اس کے لئے کا نفرنس کا ایک دن زائد کرنا پڑے۔چنانچہ منتظمین مجبور ہو گئے کہ محض اس مضمون کی خاطر 29 دسمبر کا دن بڑھا دیں۔اس کے لئے اگلے دن بھی سنائے جانے کا اعلان کیا گیا۔چنانچہ دوسرے روز سامعین کی تعداد پہلے سے بھی زیادہ تھی جنہوں نے نہایت شوق اور انہماک سے ساری تقریرسنی۔تقریر کے آخر پر کانفرنس کے صدر صاحب ( جو کہ ایک ہندو لیڈر تھے ) کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ ” یہ مضمون تمام مضمونوں سے بالا رہا۔“ اس کے علاوہ لا ہور کے مختلف اخبارات نے بھی تسلیم کیا کہ حضرت اقدس کا یہ مضمون سب مضمونوں پر غالب و بالا رہا ہے۔چنانچہ مشہور انگریزی اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ نے اس عالمی کانفرنس کی روئداد میں لکھا کہ : سب مضمونوں میں سے زیادہ توجہ اور دلچسپی سے مرزا غلام احمد قادیانی کا مضمون سنا گیا جو اسلام کے بڑے بھاری موید اور عالم ہیں اس لیکچر کو سننے کے لئے ہر مذہب وملت کے لوگ کثرت سے جمع تھے مضمون قریباً ساڑے تین گھنٹے تک پڑھا گیا اور گویا ابھی پہلا سوال ہی ختم ہوا تھا۔لوگوں نے اس مضمون کو ایک وجد اور محویت کے عالم میں سنا اور پھر کمیٹی نے اس کے لئے جلسہ کی تاریخوں میں 29 دسمبر کی زیادتی کر دی۔“