احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 156
تعلیمی پاکٹ بک 156 حصہ اوّل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ نہیں ہو سکتے پس احادیث میں ابن مریم کا نزول اس کے بروز کے ظہور کے لئے استعارہ تصریحیہ ہے۔اگر کوئی شخص حضرت عیسی علیہ السلام میں نئی نبوت کا حدوث تسلیم نہ کرے اور ان کا اپنی پہلی نبوت کے ساتھ جو مستقلہ تھی امت محمدیہ میں آنا تسلیم کرے تو پھر تو حضرت عیسی علیہ السلام مستقل آخری نبی کے معنوں میں خاتم النبین قرار پا جاتے ہیں حالانکہ خاتم النبین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وصف ہے اور مراد اس سے نبیوں کے لئے مؤثر وجود ہے جسے آخری تشریعی نبی ہونا لازم ہے۔ضروری نوٹ: خاتم النبیین کے وصف اور لَا نَبِيَّ بَعْدِی کی حدیث میں ایک پیشگوئی ہے اور پیشگوئی کی پوری حقیقت ہمیشہ اس کے وقوع پر ہی کھلتی ہے۔پیشگوئیوں کے بارے میں کسی کا اجتہاد حجت نہیں ہوسکتا۔وہ محض ایک شخص کی ذاتی رائے کی حیثیت رکھتا ہے جس کو دوسروں پر ٹھونسا نہیں جا سکتا۔لہذا پیشگوئی کے مفہوم کے بارہ میں اجماع کا دعویٰ بھی نہیں کیا جا سکتا خواہ سب لوگ اُس پیشگوئی کے ایک ہی مفہوم پر متفق بھی ہو جائیں کیونکہ امور غیبیہ میں اجتہاد کا کوئی دخل نہیں اور یہ امرفقہ حنفیہ میں مسلّم ہے چنانچہ اصول فقہ کی کتاب مسلم الثبوت میں لکھا ہے: أَمَّا فِي الْمُسْتَقْبِلَاتِ كَا شُرَاطِ السَّاعَةِ وَأُمُورِ الْآخِرَةِ فَلَا (إِجْمَاعَ) عِنْدَ الْحَنَفِيَّةِ لَاَنَّ الْغَيْبَ لَا مَدْخَلَ فِيهِ لِلِاجْتِهَادِ۔(مسلم الثبوت مع شرح صفحه (246) ترجمه آئندہ سے تعلق رکھنے والے امور میں جیسے علامات قیامت اور امور آخرت میں احناف کے نزول اجماع نہیں ہوسکتا کیونکہ امور غیبیہ میں اجتہاد کا کوئی دخل نہیں۔