احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 125 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 125

تعلیمی پاکٹ بک 125 حصہ اوّل بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ حدیث تعلیق بالمحال کے طور پر ہے اور حرف کو سے یہ مسئلہ فرضی طور پر بیان کیا گیا ہے۔عنهم یہ تو ٹھیک ہے کہ مسئلہ فرضی طور پر بیان ہوا ہے لیکن امر محال کو فرض نہیں کیا گیا بلکہ امر ممکن کو فرض کیا گیا ہے اور صاحبزادہ ابراہیم کا نبی ہونا زندگی کی شرط نہ پایا جانے کی وجہ سے محال قرار دیا گیا ہے ورنہ اپنی ذات میں اتنی نبی کا ہونا آیت خاتم النبیین کے منافی نہیں جیسا کہ امام علی القاری نے بیان کیا ہے۔بے شک آیت لَوْ كَانَ فِيْهِمَا أَلِهَةٌ إِلَّا اللهُ لَفَسَدَتَا (الانبياء : 23) میں آلِهَةٌ کا ہونا محال ہے اور آیت میں تعلیق بالمحال کی صورت ہے۔اسی طرح لَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ هُم مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الانعام: 89) میں انبیاء سے شرک سرزد نہ ہونے کی وجہ سے تعلیق بالمحال نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول آیت قرآنیہ وَلَوْ أَنَّهُمْ أَمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَسُّوبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللهِ خَيْرٌ (البقرة: 104) کی طرح ہے یعنی اگر یہود ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ان کے لئے بہتر ثواب ہوتا۔مراد یہ ہے کہ چونکہ وہ ایمان نہیں لائے اس لئے ثواب سے محروم ہیں۔ور نہ ان کے ایمان نہ لانے سے دوسرے ایمان لانے والے ثواب سے محروم نہیں پس اپنی ذات میں ثواب پانے کا امکان ہے لیکن اس آیت میں یہودیوں کیلئے جو ایمان نہ لا ئیں بہتر ثواب پانا محال قرار دیا گیا ہے اسی طرح حدیث ھذا کی رو سے اپنی ذات میں آنحضرت عملے کے بعد امتی نبی کا ہونا آیت خاتم النبین کے منافی نہیں بلکہ ممکن ہے اور صاحبزادہ ابراہیم کی زندگی کے محال ہونے پر ان کیلئے بالفعل نبی ہونا محال قرار دیا گیا ہے نہ اپنی ذات میں۔