احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 121
تعلیمی پاکٹ بک 121 حصہ اوّل -4 حدیث نبوی میں اپنے بیٹے صاحبزادہ ابراہیم علیہ السلام کی وفات پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے حق میں فرمایا: لَوْعَاشَ إِبْرَاهِيمُ) لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا۔(ابن ماجه كتاب الجنائز باب ماجاء في الصلاة على ابن رسول الله۔۔۔۔۔۔ترجمه اگر ابراہیم زندہ رہتا تو ضر ور سچا نبی ہوتا۔یہ فقرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا جبکہ اس سے پانچ سال پہلے آیت خاتم النبیین نازل ہو چکی تھی اس فقرہ سے ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک آیت خاتم النبیین صاحبزادہ ابراہیم کے بالفعل نبی بننے میں روک نہ تھی۔بلکہ صاحبزادہ موصوف کی وفات ان کے بالفعل نبی بننے میں روک ہوئی۔اگر آیت خاتم النبیین اُن کے نبی بنے میں روک ہوتی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس فقرہ کی بجائے یہ فرماتے: لَوْعَاشَ إِبْرَاهِيمُ لَمَا كَانَ نَبِيًّا لَاتِي خَاتَمُ النَّبِيِّينَ۔یعنی اگر ابراہیم زندہ بھی ہوتا تو بھی نبی نہ ہوتا کیونکہ میں خاتم النبیین ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فقرہ لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا - ظاہر کرتا ہے کہ آیت خاتم النبین ان کے نبی بننے میں روک نہ تھی۔دیکھئے اگر بالفرض یو نیورسٹی ایم۔اے کا امتحان بند کر دے اور ایک شخص کا لائق لڑکا بی۔اے تک پہنچ جائے اور وفات پا جائے تو اس وقت اس کا باپ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اگر میرا بیٹا زندہ رہتا تو وہ ایم۔اے ہوتا۔کیونکہ اس صورت میں یہ فقرہ جھوٹ بن جاتا کیونکہ اگر وہ زندہ بھی رہتا تو ایم۔اے نہ ہو سکتا۔پس مخبر صادق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فقرہ بھی اسی وجہ سے صحیح قرار پاتا ہے کہ خاتم النبین کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم