احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 114 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 114

فلیمی پاکٹ بک 114 حصہ اول فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا، (الاعراف : 36) ترجمہ: اے بنی آدم ! جب آئندہ تمہارے پاس تم میں سے رسول آئیں اور بیان کریں تم پر میری آیتیں تو جو لوگ تقویٰ اختیار کریں اور اپنی اصلاح کر لیں نہ انہیں آئندہ کے متعلق کوئی خوف ہوگا نہ وہ ماضی کے متعلق غمگین ہوں گے۔استدلال: لفظ يَأْتِيَنَّ پر نون تاکید رسولوں کے بھیجا جانے کو زمانہ مستقبل سے وابستہ کر رہا ہے اِما حرف شرط تاکید کا فائدہ دے رہا ہے یہ خطاب آئندہ زمانہ کے بنی آدم کو ہے پہلی ساری آیات مستقبل کیلئے قرینہ ہیں چنانچہ ایک آیت میں ہے: يبَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوْاوَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ۔(الاعراف : 32) ترجمہ: اے بنی آدم ! ہر عبادت کے وقت زینت اختیار کرو (لباس پہن کر عبادت کرو) اور کھاؤ اور پیو اور اسراف نہ کرو کیونکہ خدا اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔واضح ہو کہ عرب کے لوگ ننگے بدن طواف کعبہ کرتے تھے اس لئے یہ آیت نازل ہوئی۔تفسیر اتقان میں لکھا ہے۔هَذَا خِطَابٌ لِاهْلِ ذَلِكَ الزَّمَانِ وَلِكُلِّ مَنْ بَعْدَ هُمُ کہ یہ خطاب اس زمانہ کے لوگوں کیلئے ہے اور ان لوگوں کے لئے بھی جو ان کے بعد آنے والے ہیں۔اس جگہ رسل کا لفظ عام مخصوص بالبعض ہے کیونکہ آیت وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ (النساء : 70) آئندہ رسول