احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 113
113 حصہ اول تعلیمی پاکٹ بک پس اگر اس آیت کا یہ مفہوم قرار دیا جائے کہ یہ اطاعت کرنے <mark>والے</mark> <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> <mark>نہی</mark>ں بن سکتے تو چونکہ النَّبيِّين اور اَلصِّدِّيقُین اور اَلشُّهَدَاءِ اور الصَّالِحِيْنَ ایک دوسرے کے ساتھ واؤ عاطفہ سے وابستہ ہیں۔اس لئے معیت کا مفہوم چاروں کے لئے ایک ہی لینا پڑے گا۔لہذا آیت کا مفہوم یہ بن جائے گا کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرنے <mark>والے</mark> <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> <mark>نہی</mark>ں بن سکتے بلکہ صرف بظاہر <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>وں کے ساتھ ہوں گے۔صدیق <mark>نہی</mark>ں بن سکتے بلکہ بظاہر صدیقوں کے ساتھ ہوں گے۔شہداء کا مرتبہ <mark>نہی</mark>ں پاسکتے بظاہر شہیدوں کے ساتھ ہوں گے اور صالحین کا مرتبہ <mark>نہی</mark>ں پاسکتے صرف بظاہر صالحین کے ساتھ ہوں گے۔ایسے معنی اللہ تعالیٰ کے منشاء کے خلاف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بزرگ کے منافی ہیں۔کیونکہ اس طرح آیت کے یہ معنی بن جاتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے کوئی آدمی نیک بھی <mark>نہی</mark>ں بن سکتا صدیق، شہید تو کجا۔اس آیت کا صحیح مفہوم یہی ہے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں نبوت ،صدیقیت ، شہادت اور صالحیت کے چاروں درجے مل سکتے ہیں۔نبوت کی نعمت قومی ہے اور صدیقیت ،شہادت اور صالحیت شخصی افضال ہیں۔نبوت کی نعمت قومی اس لئے ہے کہ <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> دنیا میں ضرورت پر آتا ہے۔اگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں اس دنیا میں مقامِ نبوت نہ مل سکتا ہوتا بلکہ صرف صدیقیت ، شہادت اور صالحیت کا مقام ہی حاصل ہو سکتا تو پھر خدا یوں فرماتا۔اُو لَكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّنَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصُّلِحِينَ۔يُبَنِي أَدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلُ مِنْكُمْ يَقُضُونَ عَلَيْكُمْ التِي -3