احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 90
تعلیمی پاکٹ بک 90 حصہ اول امت محمدیہ کے مسیح موعود کے لئے استعارہ ہے۔حقیقتا مسیح بن مریم کا آسمان سے اترنا مراد نہیں۔کنیت بھی بطور استعارہ استعمال ہو سکتی ہے علامہ زمخشری نے آیت لهذا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ کی تفسیر میں لکھا ہے۔مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ قیامت کو جو رزق ملے گا یہ اس رزق کی مانند ہے جو ہمیں پہلے دیا گیا۔نہ کہ حقیقت وہی رزق۔ناقل ) اور دلیل (یعنی قرینہ ) اس کا وَاتُوا بِهِ مُتَشَابِهَا ہے ( یعنی وہ دنیا کے رزق سے ملتا جلتا رزق دیئے جائیں گے )۔ناقل اس کی مثال میں علامہ زمخشری لکھتے ہیں: هذَا كَقَوْلِكَ اَبُوْ يُوْسُفَ أَبُو حَنِيْفَةَ تُرِيدُ أَنَّهُ لِاسْتِحْكَامِ الشَّبُهِ كَانَ ذَاتَهُ ذَاتُهُ۔(تفسير الكشاف جلد 1 صفحه 261 زیر تفسير سورة البقرة : 26) : ترجمہ قیامت کے رزق کو دنیا کا رزق قرار دینا تیرے اس قول کی مانند ہے کہ ابو یوسف ابوحنیفہ ہیں اور اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ دونوں کے درمیان مستحکم مشابہت کی وجہ سے گویا ابو یوسف کی ذات کو ابوحنیفہ کی ذات ہی قرار دیا گیا ہے۔اس لئے ابو یوسف کہنے کی بجائے ابو حنیفہ کہہ کر مرا دا بو یوسف لیا جاتا ہے۔علامہ عبید اللہ بن مسعود حنفی اپنی کتاب التوضیح میں لکھتے ہیں۔اسْتِعَارَةِ اِسْمِ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهَ تَعَالَى لِرَجُلٍ عَالِمٍ فَقِيْهِ مُتَّقٍ۔التوضيح صفحه (184) یعنی ایک عالم متقی فقیہ شخص کو استعارہ کے طور پر ابوحنیفہ کہا جاتا ہے۔اس طرح صحیح بخاری کی حدیث میں مذکور ہے کہ ہر قل قیصر روم کے دربار