احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 89 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 89

ا پاکٹ بک 89 حصہ اوّل یعنی کسی چیز کا نام دوسری چیز پر جو اس کی اکثر خواص اور صفات میں مشابہت رکھے اطلاق کرنا جائز اور مستحسن ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں قرآن مجید میں وارد ہے۔قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَّسُوْلًا يَتْلُوا عَلَيْكُمْ أَيْتِ اللَّهِ مُبَيِّنَتٍ لِيُخْرِجَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ مِنَ الظُّلمتِ إِلَى النُّورِ۔(الطلاق: اا) اس آیت میں آنحضرت ﷺ کے نزول کی خبر دی گئی ہے جبکہ آپ اپنی والدہ کے بطن سے پیدا ہوئے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا اس لئے اجلال اور اکرام کے طور پر آپ کے لئے نزول کا لفظ استعمال فرمایا۔اسی طرح احادیث نبویہ میں مثیل عیسی کے لئے نزول کا لفظ اکراماً استعمال کیا گیا ہے جبکہ بحیثیت امام مہدی اُمت میں وہ اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہونے والا تھا۔دوسری بات اس آیت سے یہ ظاہر ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم سے مشابہ ہونے کی وجہ سے استعارہ ذکر قرار دیا گیا ہے۔علامہ محمد اسماعیل حقی اپنی تفسیر روح البیان میں لکھتے ہیں۔اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ذِکر سے جو قرآن مجید میں ہے شدید ملابست ( شدید تعلق) کی وجہ سے تشبیہ دی گئی ہے فأطلق عَلَيْهِ اِسْمُ الْمُثَبَّهِ بِهِ إِسْتِعَارَةً تَصْرِيحِيَّةً۔اس طرح مشبه كوجو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مشبه به کانام استعاره تصریحیہ کے طور پر دیا گیا ہے۔اس سے یہ واضح ہوا کہ آنحضرت ﷺ حقیقتاذکر نہیں۔استعارہ اور مجاز کے طور پر آپ کو ذِکر قرار دیا گیا ہے۔ویسے ہی پیشگوئی میں عیسی بن مریم کا لفظ