احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 87
تعلیمی پاکٹ بک بروز کی حقیقت 87 حصہ اوّل (1) شیخ محمد اکرم صابری اسی جگہ بروز کے معنی یہ بیان فرماتے ہیں:۔روحانیت كَمَّل گا ہے برار باب ریاضت چناں تصرف می فرماید فاعل افعال او می گردد و این مرتبه را صوفیه بروز می گویند - : (اقتباس الانوار صفحہ 51) ترجمه کامل لوگوں کی روحانیت ارباب ریاضت پر ایسا تصرف کرتی ہے کہ وہ روحانیت ان کے افعال کی فاعل ہو جاتی ہے اس مرتبہ کو صوفیاء بروز کہتے ہیں۔(2)۔خواجہ غلام فرید آف چاچڑاں شریف فرماتے ہیں۔وَالْبُرُوزُ اَنْ يُفِيُضَ رُوحٌ مِنْ أَرْوَاحِ الْكُمَّلِ عَلَى كَامِلٍ كَمَا يُفِيضُ عَلَيْهِ التَّجَلّيَاتُ وَهُوَ يَصِيرُ مَظْهَرَهُ وَيَقُولُ أَنَا هُوَ - اشارات فریدی حصه دوم صفحه (110) ترجمه : بروز یہ ہے کہ کاملین کی ارواح میں سے کوئی روح کسی کامل انسان پر افاضہ کرے جیسا کہ اس پر تجلیات کا افاضہ ہوتا ہے اور وہ اس کا مظہر بن جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں وہی ہوں۔(3)۔حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز قرار دے کر کہتے ہیں۔هذَا وَجُودُ جَدَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وَجُودَ عَبْدِ الْقَادِرِ۔گلدسته کرامات صفحہ 8 مؤلفہ مفتی غلام سرور صاحب مطبوعه افتخار دہلوی)