احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 85 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 85

تعلیمی پاکٹ بک 85 حصہ اوّل بعض علماء میں یہ غلط فہمی ہوئی کہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے خا کی جسم کے ساتھ آسمان پر زندہ موجود ہیں اور آخری زمانہ میں اتریں گے اور اسی غلط فہمی کی وجہ سے انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق وفات کے معنی پر مشتمل الفاظ مُتَوَفِّيكَ اور تَوَفَّيْتَنِی کی تاویل کی اور ان کے معنی روح اور جسم کے ساتھ زندہ آسمان پر اُٹھا لینا کر لئے حالانکہ یہ آیات وفات مسیح پر نص صریح ہیں۔خود مفسرین کو انہی احادیث کی بناء پر وفات کی یہ تاویل کرنا مسلم ہے: إِنَّمَا احْتَاجَ الْمُفَسِّرُونَ إِلَى تَأْوِيلِ الْوَفَاةِ بِمَا ذُكِرَ لِاَنَّ الصَّحِيحَ اَنَّ اللهَ رَفَعَهُ إِلَى السَّمَاءِ مِنْ غَيْرِ وَفَاةٍ۔فتح البیان جلد 2 صفحه 246 زیر تفسیر آل عمران : 56) ترجمه مفترین ( مسیح کے بارے میں ) الوفاۃ کی تاویل کرنے میں مجبور تھے۔جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے۔کیونکہ صحیح بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسی کو آسمان پر بغیر وفات کے اٹھالیا ہے۔ایک دوسرا گروہ جس نے آیات قرآنیہ کی تاویل نہ کی اور ان کو اصل معنی پر رکھ کر یہ گروہ وفات مسیح کا قائل تھا اس نے آیات قرآنیہ کی تاویل کی بجائے احادیث نبویہ کی تاویل کی اور عیسی بن مریم کے نزول سے حضرت عیسی علیہ ا کے ایک ہم صفت شخص کا ظہور تسلیم کیا۔یا نزول عیسی بن مریم سے مراد امام مہدی میں مسیح کا بروزی ظہور تسلیم کیا۔چنانچہ امام سراج الدین ابن الوردی نے مسیح کے اصالتاً نزول کی تصدیق کے بعد ایک دوسرے گروہ کا عقیدہ یوں لکھا ہے: السلام قَالَتْ فِرْقَةٌ مِّنْ نُزُولِ عِيسَى حَرُوجُ رَجُلٍ يُشْبِهُ عِيسَى فِي الْفَضْلِ وَالشَّرَفِ كَمَا يُقَالُ لِلرَّجُلِ الْخَيْرِ مَلَكٌ وَالشَّرِيرِ شَيْطَانٌ تَشْبِيْهَا بِهِمَا وَلَا يُرَادُ الْأَعْيَان (خريدة العجائب وفريدة الرغائب صفحه 263 مطبوعه مصر)