احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 537
احمدیہ علیمی پاکٹ بک 537 کو ہی ساری امت میں سے اس وقت تک یہ مقام حاصل ہوا ہے۔حصہ دوم پس ہمارے نزدیک یہ مقام نبوت محدثیت والی جزوی نبوت سے بالا ہے۔کیونکہ آپ کے نزدیک اس وقت تک ایسا نبی جو ایک پہلو سے امتی بھی ہو صرف ایک ہی شخص گزرا ہے جو سیح موعود ہے اور دوسرے صلحاء میں نبی کا نام پانے کی شرط جو امور غیبیہ کو بکثرت پانا ہے پورے طور پر پائی نہیں گئی لہذا اگر دوسرے صلحاء نبی کا نام پالیتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی میں رخنہ واقع ہو جاتا۔پس ان حوالہ جات کی روشنی میں آپ کو عام محدثین کی طرح محض محدث سمجھنا جائز نہیں۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے براہین احمدیہ میں فرمایا ہے:۔امتِ محمدیہ میں محدثیت کا منصب اس قدر بکثرت ثابت ہوتا ہے۔جس سے انکار کرنا بڑے غافل اور بے خبر کا کام ہے۔اس امت میں آج تک ہزار ہا اولیاء اللہ صاحب کمال گزرے ہیں جن کی خوارق اور کرامات بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ثابت اور محقق ہو چکی ہیں۔( براہین احمدیہ چہار حصص روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 653 حاشیہ ) پس اولیاء اللہ یا بالفاظ دیگر محد ثین تو امت محمدیہ میں ہزار ہا گزرے ہیں اور ان میں سے امور غیبیہ بکثرت پانے کی وجہ سے صرف مسیح موعود علیہ السلام کو خدا اور رسول کی طرف سے نبی کا نام دیا گیا ہے۔الہذا یہ امر اس بات کی روشن دلیل ہے کہ مسیح موعود کا مقام نبوت میں محض محدث سے بالا ہے۔یہ وہ بات ہے جس سے ہمارے لا ہوری دوستوں کو انکار نہیں کرنا چاہیے۔خلاصہ کلام یہ کہ ہمارے اور لاہوری فریق کے درمیان محض ایک لفظی نزاع ہے۔ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بوجہ نبوت علی وجہ الکمال محدث جانتے ہیں اور