احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 18 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 18

تعلیمی پاکٹ بک 18 حصہ اوّل نہیں مگر رفع الی اللہ سے مجاز حضرت مسیح کا رفع الى السماء مراد لینا بھی درست نہیں کیونکہ رفع کے بعد اگر السَّمَاء کا لفظ بھی موجود ہو اور السی کا صلہ بھی موجود ہو اور رفع کا فاعل خدا ہو اور کوئی ذی روح اس کا مفعول ہو تو عربی زبان میں اس صورت میں بھی رفع سے مراد درجہ کی بلندی ہوتی ہے نہ کہ جسم کا آسمان پر اُٹھایا جانا۔چنانچہ حدیث نبوی میں آیا ہے۔إِذَا تَوَاضَعَ رَفَعَهُ اللهُ بِالسِّلْسِلَةِ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ۔(کنز العمال جلد 3 صفحه 117 باب التواضع ترجمه : جب بندہ عاجزی اختیار کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اسے ساتویں آسمان کی طرف اٹھالیتا ہے زنجیر کے ساتھ۔:8 اس جگہ فروتنی اختیار کرنے والے کے لئے سلسلہ وار بلند مرتبہ پانے کا ذکر ہی ہے نہ کہ ظاہری طور پر مادی جسم کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا۔بعض مفسرین نے آیت يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى میں ترتیب تو تسلیم کی ہے مگر انہوں نے مُتَوَفِّيكَ کے یہ معنی کئے کہ خدا نے کہا میں تجھے پورا پورا قبضے میں لے لینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں“ لہذا پہلے حضرت عیسی علیہ السلام کو مع روح و جسم زندہ قبضہ میں لے لیا اور پھر زندہ کو ہی آسمان پر اٹھالیا۔ہم بتا چکے ہیں کہ توفی کے فعل کا جب اللہ تعالیٰ فاعل ہو اور انسان اس کا مفعول یہ ہوتو اس جگہ صرف قبض روح کے معنی مراد ہوتے ہیں۔قبض روح کی از روئے قرآن مجید دو ہی صورتیں ہیں وفات دینا اور سُلا دینا۔آیت زیر بحث میں صرف وفات دینے کے معنی ہی مراد ہو سکتے ہیں۔کیونکہ سُلا دینے کے معنوں کے لئے کوئی قرینہ چاہیئے اور وہ اس جگہ موجود نہیں اور بلا قرینہ اس کے معنی سُلا دینا نہیں