احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 358 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 358

358 لَهُ خَسَفَ الْقَمَرُ الْمُنِيرُوَ إِنَّ لِى غَسَا الْقَمَرَانِ المُشْرِقَانِ أَتُنْكَرُ حصہ دوم اس شعر سے یہ نتیجہ نکالنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل قرار دیتے ہیں سراسر نادانی ہے۔کیونکہ مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جو چاند اور سورج کو گرہن لگا۔یہ اگر چہ امام مہدی کے ظہور کی تصدیق کے لئے لگا۔مگر دراصل یہ دونوں گرہن حدیث دار قطنی کی ایک پیشگوئی کی بناء پر ہیں۔پس وہ پیشگوئی جو عظیم الشان دو نشانوں پر مشتمل تھی۔اس کا ظہور گوامام مہدی کے دعوئی کی صداقت کی دلیل ہے مگر ساتھ ہی یہ دونوں گرہن در حقیقت حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کے بھی متین نشان ہیں اس طرح حضرت امام مہدی کی صداقت کے لئے دو آسمانی نشان ظاہر ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر تین آسمانی نشان گواہ ہو گئے۔اب بتاؤ پلہ کدھر بھاری رہا؟ نوٹ:۔یادر ہے کہ خسف کا لفظ خسوف یعنی گرہن کے معنوں میں بھی آتا ہے اور کسی گرے کی زمین کے پھٹ کر ھنس جانے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خسف القمر کے نشان سے مراد شق القمر کے معجزہ کا ظہور ہے۔قرآن مجید میں گرہ ارضی کے متعلق آیا ہے کہ فرعون کے زمانہ میں قارون کا گھر خسف ارض سے زمین میں ھنس گیا۔جیسا کہ فرماتا ہے:۔فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ - (القمر: 81) اس سلسلہ میں مولوی ابوالحسن صاحب ندوی نے اپنی کتاب ” قادیانیت“ میں بحوالہ خطبہ الہامیہ یہ بیان کیا ہے کہ مرزا صاحب کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بعثتیں تھیں۔بعثت اول آدم سے پانچویں ہزار میں ہوئی اور دوسری بعثت مسیح موعود کی بروزی صورت اختیار کر کے چھٹے ہزار کے آخر میں ہوئی اور ایک