احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 359 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 359

احمدی تعلیمی پاکٹ بک 359 حصہ دوم عبارت کی بناء پر یہ خیال آپ کی طرف منسوب کیا ہے کہ کمالات نبوت اور کمالات روحانیت نے زمانہ کے ساتھ ساتھ ترقی کی ہے اور ان کا ظہور ان کی ذات میں ہوا ہے۔جس عبارت سے وہ یہ نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے:۔اسی طرح ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقی کا منتہی نہ تھا۔بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔پھر اسی روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی۔جیسا کہ آدم چھٹے دن کے آخر میں احسن الخالقین خدا کے اذن سے پیدا ہوا اور خیر الرسل کی روحانیت نے اپنے ظہور کے کمال کے لئے اور اپنے نور کے غلبہ کے لئے ایک مظہر اختیار کیا جیسا کہ خدا تعالیٰ نے کتاب مبین میں وعدہ فرمایا ہے۔پس میں وہی مظہر ہوں اور وہی نور معہود ہوں۔اس عبارت کا ہرگز یہ منشاء نہیں ہے کہ مسیح موعود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت کے کامل ظہور کے لئے اور آپ کے نور کے دنیا میں غالب کرنے کے لئے ایک مظہر کی حیثیت دی ہے۔یعنی یہ ظاہر کیا ہے کہ آپ کے ذریعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت کے اہل کا دنیا پر کامل ظہور ہوگا اور آپ کے نور کا انتشار غالب آئے گا۔یہ روحانیت دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان ہوئی ہے۔اور مسیح موعود کو اس روحانیت اور نورانیت کے انتشار کے لئے بطور مظہر ایک در میانی واسطہ کی حیثیت دی گئی ہے۔پس روحانیت اور نور تو اصل کا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اور مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کامل روحانیت اور نور کے انتشار کے لئے محض ایک آلے اور خادم کی حیثیت رکھتے