احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 346
احمد یہ تعلیمی پاکٹ بک 346 حصہ دوم ہیں ورنہ حقیقت میں دو قسموں کا ایک قسم ہونا محال ہے۔کیونکہ قِسْمین میں باہم تخالف اور تائین ہوتا ہے۔پس جب حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ اپنے مکفرین اور مکذبین کو کا فرقتم اول قرار نہیں دیتے اور آپ کے نزدیک کا فرقتم اول وہ ہوتا ہے جو سرے سے اسلام کا یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منکر ہو۔پس مولوی ابوالحسن صاحب کا پیش کردہ نتیجہ سرا سر غلط ہے کہ مرزا صاحب شریعت مستقلہ لانے والے نبی ہیں۔بالفرض مولوی ابوالحسن صاحب ندوی کا مزعوم مسیح اگر آجائے تو اس کا منکر کا فر ہوگا یا نہیں؟ اور اس کے منکر کو اگر وہ کا فرقرار دیں تو کیا وہ شریعت مستقلہ لانے کا مدعی ہوگا اور قرآن مجید کے بعد وہ ایک نئی شریعت لانے والا نبی ہوگا؟ اگر نہیں تو فقہی طور پر آپ کو یہی کہنا پڑے گا کہ مسیح موعود کا منکر کا فر قسم دوم ہوگا نہ کا فرقتم اول تبھی ان کا مزعوم مسیح موعود شریعت جدیدہ لانے کے دعوی کے الزام سے بچ سکتا ہے۔ایک اور نکتہ یا درکھنے کے قابل حقیقۃ الوحی کی عبارت میں دوسری قسم کا کا فر حقیقہ اس شخص کو قرار دیا گیا ہے جو باوجود اتمام حجت کے مسیح موعود کو جھوٹا جانتا ہو۔کیونکہ آپ کے الفاظ یہ ہیں:۔دوسرے یہ کفر کہ مثلاًہ وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو با وجود اتمامِ حجت کے جھوٹا جانتا ہے“۔پس جس پر اتمام محبت نہ ہوا ہو۔اس میں گفر قسم دوم کی وجہ عنداللہ نہیں پائی جائے گی۔ہاں چونکہ شریعت کی بناء ظاہر پر ہے اور اتمام حجت کا علم محض خدا تعالیٰ کو ہے۔اس لئے منکرین مسیح موعود مسلمانوں کے متعلق حجت پوری ہونے یا نہ ہونے