احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 345
345 حصہ دوم احمد یہ تعلیمی پاکٹ بک ہے۔اس سے ان الفاظ کا منطوق کہ اپنے دعویٰ سے انکار کرنے والوں کو کافر کہنا یہ صرف اُن نبیوں کا کام ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔حقیقۃ الوحی کی پیش کردہ عبارت کی روشنی میں کا فرقتم اول ہے نہ کا فرقتم دوم اور مسیح موعود کا انکار کفر قسم اول قرار نہیں دیا گیا۔کیونکہ آپ شریعت جدیدہ لانے والے نہیں۔بلکہ کفر قسم دوم قرار دیا گیا ہے۔اور ہمارے نزدیک کفر قسم دوم سے کلمہ گو مسلمان کا فرقتم اوّل یا غیر مسلم نہیں ہو جاتے۔بلکہ ملت اسلامیہ کی ظاہری چاردیواری میں داخل ہی سمجھے جاتے ہیں۔قسم دوم کی وجہ کفر پایا جانے کے باوجود ہم انہیں مسلمان ہی کہتے ہیں نہ غیر مسلموں کی طرح کا فر۔صرف شریعت جدیدہ لانے والے انبیاء کا انکار ہی کفر قسم اول ہوگا۔اس لئے یہی تریاق القلوب میں مراد ہے۔کیونکہ مسیح موعود شریعت جدیدہ لانے والے نبی نہیں ہیں جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔چونکہ آپ غیر تشریعی اُمتی نبی ہیں اس لئے آپ کا منکر مسلمانوں میں سے امتی کا فر ہوگا نہ کہ غیر مسلم۔دونوں قسم کے کفر کو ایک قسم کا کفر اطلاق جنس کے لحاظ سے قرار دیا گیا ہے نہ حقیقت کے لحاظ سے۔انواع میں دونوں قسم کے منکرین گفر میں ہم مسلم اور غیر مسلم کا فرق کریں گے۔رہا باطن کا معاملہ سواسکی حقیقت اللہ ہی جانتا ہے۔دونوں قسم کے کفر میں جس شخص پر اتمام حجت ہو چکا ہوگا وہ قابل مؤاخذہ ہوگا۔اور جس پر اتمام حجت نہیں ہوا ہوگا وہ قابل مواخذہ نہیں ہوگا۔اورا اتمام حجت کا علم بموجب قول حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کو ہے جو عالم الغیب ہے۔پس فرد فرد کے جہنمی ہونے کا فتویٰ ہم نہیں دے سکتے۔جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مکذب اور منکر قرار پاچکا ہے خواہ غیر مسلم ہو یا مسلم ،منکر مسیح موعود ہی قابل مواخذہ ہوگا۔یہ ہے مفہوم اس عبارت کا کہ اگر غور سے دیکھا جائے تو دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل