احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 344 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 344

احمدیہ علیمی پاکٹ بک 344 حصہ دوم نسبت نجات کا حکم دیں۔اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے ہمیں اس میں دخل نہیں اور جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں۔یہ علم محض خدا تعالیٰ کو ہے کہ اسکے نزدیک با وجود دلائل عقلیہ اور نقلیہ اور عمدہ تعلیم اور آسمانی نشانوں کے کس پر ابھی تک اتمام حجت نہیں ہوا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 186 ) اور حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 185 پر یہ لکھتے ہیں:۔” بہر حال کسی کے کفر اور اس پر اتمام حجت کے بارے میں فرد فرد کا حال دریافت کرنا ہمارا کام نہیں ہے۔یہ اس کا کام ہے جو عالم الغیب ہے ہم اس قدر کہہ سکتے ہیں کہ خدا کے نزدیک جس پر اتمام حجت ہو چکا ہے اور خدا کے نزدیک جو منکر ٹھہر چکا ہے وہ مؤاخذہ کے لائق ہوگا۔صفحہ 179 اور صفحہ 180 کی ان عبارتوں سے ظاہر ہے کہ آپ کے نزدیک جہنمی صرف وہ کافر ہے جس پر اتمام حجت ہو چکا ہو۔اور پھر آپ کو جھوٹا جانتا ہو۔ورنہ اگر کسی شخص پر اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ آپ کا مکذب اور منکر ہے۔تو وہ قابل مواخذہ یعنی جہنمی نہیں ہو گا۔دوسری عبارت میں جو یہ لکھا ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہے۔اس سے مُراد یہ ہے کہ وہ کامل مسلمان نہیں ہے۔اس جگہ نفی علی الاطلاق مراد نہیں بلکہ نئی کمال مراد ہے۔جس پر آپ کا الہام مسلماں را مسلماں باز کردند جو مسلمان کو پورا مسلمان کرنے کے ذکر پر مشتمل ہے۔شاہد ناطق ہے۔آپ کے اس الہام میں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کے منکرین مسلمانوں کا نام مسلمان ہی رکھا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا آپ کے خلفاء نے بھی آپ کا انکار کرنے والے مسلمانوں کو کہیں بھی غیر مسلم یا غیر مسلموں کی طرح کا فرقرار نہیں دیا۔تریاق القلوب کی جو عبارت مولوی ابوالحسن صاحب ندوی نے پیش کی