احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 6
تعلیمی پاکٹ بک 6 حصہ اول بعد کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔تو اس وقت میں اسی طرح کہوں گا جس طرح اس نیک بندے (حضرت عیسی) نے کہا کہ میں ان پر ( اس وقت تک ) نگران تھا جب تک میں ان میں موجود رہا۔پس جب تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر تو ہی ان پر نگران تھا۔اس پر کہا جائے گا کہ یہ لوگ تیرے بعد مرتد ہی رہے۔استدلال:۔جو معنی تَوَفَّيْتَنِی کے اس حدیث میں نبی کریم ﷺ کے بیان کے لئے جاتے ہیں وہی معنی حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں لئے جائیں گے۔کیونکہ رسول کریم علیہ کا اپنی وفات کے بعد قیامت کے دن حضرت عیسی علیہ السلام کے الفاظ میں بیان دینا واضح کرتا ہے کہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی والا بیان حضرت عیسی علیہ السلام کا بھی وفات کے بعد ہوا۔اور توفی کے بعد انہیں قوم میں اصالتاً دوبارہ آنے کا موقع نہیں ملا جس طرح آنحضرت ﷺ کو تَوَفِّی کے بعد اصالتاً قوم میں آنے کا موقع نہیں ملا۔:4 تَوَفَّی کے متعلق تحقیق:۔جن لوگوں کو اس آیت کی تفسیر میں فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کے معنی پورا پورا لے لیا تو نے مجھے یعنی روح و جسم کے ساتھ قبضہ میں لے لیا تو نے مجھے کے معنوں پر اصرار ہو ان پر فرض ہے کہ وہ ایسے استعمال کی عربی زبان سے کوئی مثال پیش کریں۔جس میں تَوَفَّى باب تَفَعُل کا کوئی صیغہ استعمال ہوا ہو جس کا فاعل خدا اور مفعول به کوئی ذی روح ہو وہاں وفات دینے یا سلا دینے کے سوازی روح کے لئے قبض الجسم کا مفہوم لیا گیا ہو قرآن کریم میں تو ذی روح کے لئے توفی کا دو "