احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 195
195 حصہ اول تعلیمی پاکٹ بک نسبت یہ الہام ہوا ہے إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَر۔اس الہامی عبارت کا ترجمہ یہ ہے کہ سعد اللہ جو تجھے ابتر کہتا ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ تیرا ( حضرت اقدس کا۔ناقل ) سلسلہ اولاد اور دوسری برکات کا منقطع ہو جائے گا ایسا ہر گز نہیں ہوگا بلکہ وہ خود ابتر رہے گا۔(انوار الاسلام روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 86،85 واشتہار 15اکتوبر 1894ء) گویا اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس کی دعا کے نتیجہ میں اپنا فیصلہ صادر فرما دیا کہ آپ نہیں بلکہ سعد اللہ ابتر رہے گا اور اس کی پیشگوئی جھوٹی ثابت ہوگی۔چنانچہ ان تحریروں اور پیشگوئیوں کی اشاعت کے بعد حضرت اقدس کے ہاں تین لڑکے پیدا ہوئے مگر سعد اللہ نومسلم کے ہاں کوئی لڑکا یا لڑ کی پیدا نہ ہوئے اور جو اولا داس کے ہاں پہلے پیدا ہو چکی تھی وہ پہلے ہی مر چکی تھی سوائے صرف ایک چودہ پندرہ سالہ محمود نامی بیٹے کے جس نے ایک چھوڑ دو شادیاں بھی حضرت اقدس کے مخالفین کے آمادہ کرنے پر کیں مگر اس کے ہاں بھی کوئی اولاد نہ ہوئی۔سعد اللہ خود بھی اس پیشگوئی کی اشاعت کے بعد 12 سال زندہ رہا لیکن کوئی اولا داس کے ہاں نہ ہوئی اور اسکی سالہا سال کی گریہ وزاری اور دعاؤں کا کوئی اثر نہ ہوا اور اسے اولاد کی حسرت ہی رہی۔چنانچہ مرنے سے پہلے اس نے فارسی میں مناجات ” قاضی الحاجات“ نامی میں ذیل کے شعروں میں اللہ تعالیٰ سے شکوہ بھی کیا کہ اسے اولاد سے محروم رکھا گیا ہے۔جگر گوشہ ہادا دی اے بے نیاز ولے چند زا نها گرفتی تو بار دل من بنعم البدل شاد کن بلطف از غم وغصه آزاد کن یعنی ”اے بے نیاز تو نے مجھ کو اولا د دی تھی مگر ان میں سے بعض کو تو نے واپس لے لیا۔اب میرے دل کو ان کے عوض میں اور اچھی اولاد دے کر شاد کر اور اپنے لطف کے ساتھ مجھے رنج و غم سے آزاد کر “